بولیویا کے مغربی شہر ویاچا میں ایک فوجی اڈے پر یکے بعد دیگرے دو دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم دو افراد ہلاک، 81 زخمی اور سات فوجی لاپتا ہوگئے ہیں۔ ڈان میں شائع اے ایف پی کی 5 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق واقعہ ایک روز پہلے بولیوار مکینائزڈ رجمنٹ کی بیرکس میں تقریباً دوپہر ڈھائی بجے پیش آیا۔ ہلاک اور لاپتا افراد فوجی اہلکار بتائے گئے ہیں، جبکہ زخمیوں میں عام شہری بھی شامل ہیں۔
بولیویا کے وزیر دفاع ارنسٹو جسٹی نیانو نے کہا کہ اڈے پر آتش بازی میں استعمال ہونے والا مواد ذخیرہ تھا، لیکن دھماکوں کی درست وجہ ابھی زیرِ تفتیش ہے۔ ان کے مطابق پہلی دھماکہ خیز لہر ممکنہ طور پر ذخیرہ شدہ بلیک پاؤڈر یا آتش بازی کے مواد سے متعلق تھی، جس کے بعد اس سے کہیں زیادہ شدت کا دوسرا دھماکا ہوا۔ یہ ابتدائی سرکاری تشریح ہے، حتمی تکنیکی نتیجہ نہیں۔
وزارت دفاع نے کہا کہ فوجی ہتھیاروں میں دھماکا نہیں ہوا۔ اس بیان سے آتش گیر یا دھماکا خیز مواد کے ذخیرے اور فوجی گولہ بارود کے درمیان فرق واضح کیا گیا، تاہم حکام اب بھی یہ جانچ رہے ہیں کہ دوسرا بڑا دھماکا کس مادے سے ہوا، حفاظتی پروٹوکول پر کتنا عمل کیا گیا اور آیا کسی انسانی یا انتظامی کوتاہی نے واقعے میں کردار ادا کیا۔
سرکاری اعداد کے مطابق 81 زخمیوں کو طبی مراکز منتقل کیا گیا، جن میں دو کی حالت سنگین بتائی گئی۔ ابتدائی پولیس رپورٹ میں 59 زخمیوں کا ذکر تھا، جن میں کم از کم 52 شہری شامل تھے، لیکن بعد میں مجموعی تعداد بڑھ گئی۔ مختلف اوقات میں جاری ہونے والے اعداد کے اس فرق کو تازہ سرکاری شمار کے مطابق پڑھنا چاہیے، جبکہ زخمیوں اور لاپتا افراد کی تعداد تلاش اور طبی جانچ کے ساتھ مزید تبدیل ہوسکتی ہے۔
دھماکوں سے قریبی گھروں کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں، چھتیں متاثر ہوئیں اور ملبہ بکھر گیا۔ مقامی میڈیا کی تصاویر میں شہر کے اوپر سیاہ دھوئیں کا بڑا ستون دیکھا گیا۔ فائر بریگیڈ اور پولیس کی ٹیمیں اڈے پر پہنچیں، اطراف کے رہائشیوں کو عارضی پناہ گاہ منتقل کیا گیا اور حفاظتی اقدام کے طور پر علاقے کی بجلی منقطع کردی گئی۔ رپورٹ میں متاثرہ گھروں کی حتمی تعداد یا مالی نقصان کا تخمینہ نہیں دیا گیا۔
صدر روڈریگو پاز نے ہلاک و زخمی افراد، ان کے خاندانوں اور متاثرہ رہائشیوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے جامع، تکنیکی اور شفاف تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکام کو واقعے کی وجہ، حفاظتی قواعد کی پابندی اور ممکنہ ذمہ داریوں کا واضح تعین کرنا ہوگا۔ ویاچا کی مقامی انتظامیہ نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
سات لاپتا فوجیوں کی تلاش اور تصدیق کا عمل جاری بتایا گیا ہے۔ کسی شخص کا لاپتا ہونا اس کی ہلاکت کی تصدیق نہیں، اس لیے ان کا شمار ہلاکتوں میں شامل نہیں کیا گیا۔ ریسکیو ٹیموں کو ملبے، ممکنہ غیر پھٹے مواد اور عمارتوں کے عدم استحکام جیسے خطرات کے درمیان کام کرنا پڑ سکتا ہے، جس کی وجہ سے تلاش میں احتیاط ضروری ہے۔
فوجی یا صنعتی مقام پر دھماکا خیز مواد کے محفوظ ذخیرے کے لیے مقدار، درجہ حرارت، علیحدہ عمارت، آگ سے بچاؤ، رسائی کی پابندی، باقاعدہ معائنہ اور ہنگامی انخلا کے واضح قواعد بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ صدر کی ہدایت کردہ تحقیقات سے یہ معلوم ہونا باقی ہے کہ ویاچا اڈے پر کون سے قواعد نافذ تھے اور ان پر کس حد تک عمل ہوا۔
فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت دو اموات، 81 زخمی، سات لاپتا فوجی، رہائشیوں کا انخلا، تین روزہ سوگ اور سرکاری تحقیقات کا حکم ہے۔ دھماکوں کی حتمی وجہ، کسی فرد یا ادارے کی ذمہ داری اور مکمل نقصانات کا تعین تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی ہوگا۔




