ریاض: برطانوی توانائی کمپنی بی پی نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں عالمی پٹرولیم کونسل کے توانائی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کی 11 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کے بعد پیدا ہونے والی سفری رکاوٹوں کے تناظر میں کیا گیا۔ یہ کانفرنس عالمی تیل اور گیس کی صنعت سے وابستہ اعلیٰ عہدیداروں کے لیے ایک اہم اجتماع ہے۔

رائٹرز کے مطابق ریاض کے ہوائی اڈے کو میزائل حملے کے بعد بند کیا گیا، جس سے فضائی آمدورفت اور شرکا کے سفری انتظامات متاثر ہوئے۔ رپورٹ میں اس حملے کے نتیجے میں جانی نقصان اور بڑی تعداد میں لوگوں کے زخمی ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ فوری طور پر سامنے آنے والے اعداد و شمار مختلف اوقات میں تبدیل ہوتے رہے، اس لیے کسی ایک غیر حتمی تعداد کو مستقل حتمی شمار نہیں سمجھنا چاہیے۔

بی پی نے کانفرنس سے غیر حاضری کی وجہ سفری مسائل کو بتایا اور سعودی عرب سمیت خطے میں اپنے کاروباری تعلقات کے لیے تعاون برقرار رکھنے کا مؤقف اختیار کیا۔ اس وضاحت سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی کا اعلان کانفرنس کی پالیسی یا توانائی شعبے کے لیے سعودی منصوبوں سے باضابطہ لاتعلقی کے بجائے موجودہ نقل و حرکت کی مشکلات سے متعلق تھا۔

سعودی وزارت توانائی نے، رائٹرز کے مطابق، کہا کہ پانچ روزہ توانائی کانفرنس مقررہ منصوبے کے تحت قریبی کانفرنس مرکز میں منعقد ہو رہی ہے۔ اس طرح ہوائی اڈے کی بندش اور فضائی سفر میں مشکلات کے باوجود منتظمین نے تقریب کو منسوخ نہیں کیا۔ بین الاقوامی اجتماع کے لیے شرکا کی حفاظت، ہوٹلوں تک رسائی اور متبادل سفری انتظامات اہم انتظامی مسائل بن گئے۔

فنانشل ٹائمز کے حوالے سے رائٹرز نے بتایا کہ ایگزون موبل، ٹوٹل انرجیز اور شیل سے وابستہ بعض اعلیٰ عہدیداروں کی شرکت بھی متاثر ہونے کی توقع تھی۔ تاہم ان اداروں کے بارے میں تمام دعوؤں کو حتمی کمپنی اعلانات تصور نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ بعض کمپنیوں کی فوری تصدیق یا تبصرہ دستیاب نہیں تھا۔ بی پی کی عدم شرکت الگ سے رپورٹ ہونے والا واضح فیصلہ ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی نے توانائی کی فراہمی، نقل و حمل اور عالمی کاروباری سرگرمیوں کے لیے خطرات بڑھا دیے ہیں۔ کانفرنس جاری رہنے اور اہم کمپنیوں کے سفر متاثر ہونے کی بیک وقت اطلاعات یہ بتاتی ہیں کہ صنعتی رابطے برقرار رکھنے کی کوششیں جاری ہیں، لیکن موجودہ سکیورٹی صورت حال بڑے کاروباری اجتماعات کے عملی انتظامات کو متاثر کر سکتی ہے۔