کراچی: حب پاور کمپنی نے کہا ہے کہ پاکستان میں بی وائی ڈی گاڑیوں کی پیداوار کے ابتدائی مرحلے میں خام مال اور پرزوں کے لیے مکمل طور پر درآمدات پر انحصار کیا جائے گا، تاہم وقت کے ساتھ مقامی تیاری کا حصہ بڑھانے کا منصوبہ ہے۔ کمپنی انتظامیہ نے 20 اکتوبر کو کارپوریٹ بریفنگ میں بتایا کہ طویل مدتی ہدف گاڑی کے 80 فیصد حصے تک مقامی تیاری حاصل کرنا ہے، جس سے لاگت میں مسابقت بہتر ہونے اور درآمدی انحصار کم ہونے کی توقع ہے۔
ٹاپ لائن سکیورٹیز کے مطابق بی وائی ڈی کا پاکستان میں پلانٹ آئندہ چار سے پانچ ہفتوں میں، یعنی دسمبر کے وسط تک، آپریشن شروع کر سکتا ہے۔ انتظامیہ نے پیداوار بڑھنے کے ساتھ ابتدائی طور پر ماہانہ تقریباً ایک ہزار سے ڈیڑھ ہزار گاڑیوں کی فروخت کی رفتار حاصل کرنے کا ہدف بتایا ہے۔ کمپنی مزید ماڈلز بھی مرحلہ وار متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے اور ایسے مارکیٹ حصوں پر توجہ دے گی جہاں فروخت کا قابل ذکر حجم پیدا ہو سکے۔
یہ منصوبہ پاکستان کی برقی گاڑیوں کی مارکیٹ میں بڑھتی مسابقت کے دوران آگے بڑھ رہا ہے۔ ٹاپ لائن سکیورٹیز کے مطابق لکی سیمنٹ نے تجزیہ کاروں کو بتایا کہ ای وی شعبے میں مقابلہ شدید ہے، خاص طور پر چین سے مکمل تیار شدہ گاڑیوں کی درآمد کے باعث۔ کمپنی مقامی سطح پر ای وی ماڈلز کی پیداوار 2027 کی پہلی سہ ماہی تک شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس کے بعد گاڑیوں کی تعداد اور ماڈلز میں بتدریج اضافہ متوقع ہے۔
حبکو کی بیان کردہ حکمت عملی میں فوری طور پر مکمل مقامی تیاری کے بجائے مرحلہ وار لوکلائزیشن شامل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پلانٹ کے آغاز پر درآمدی مواد کی ضرورت زیادہ رہے گی، جبکہ مقامی سپلائی چین تیار ہونے کے ساتھ پاکستان میں تیار ہونے والے پرزوں کا تناسب بڑھایا جائے گا۔ انتظامیہ نے 80 فیصد تک مقامی تیاری کو طویل مدتی مقصد قرار دیا ہے، نہ کہ ابتدائی پیداوار کی شرح۔
دستیاب معلومات میں پلانٹ کے آپریشن شروع ہونے کے وقت کو متوقع شیڈول کے طور پر بیان کیا گیا ہے، اس لیے دسمبر کے وسط کی تاریخ کو حتمی تجارتی آغاز نہیں سمجھا جا سکتا۔ اسی طرح ماہانہ فروخت اور لوکلائزیشن کے اعداد کمپنی کے اہداف ہیں اور ان کا حصول مارکیٹ طلب، پیداوار کی رفتار، سپلائی چین اور دیگر کاروباری عوامل پر منحصر ہوگا۔

