اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی برائے اپ گریڈیشنِ موجودہ یا براؤن فیلڈ ریفائنریز 2023 میں ترامیم کی توثیق کرتے ہوئے اپ گریڈ معاہدے مکمل کرنے کی مدت 60 سے کم کر کے 45 دن کر دی ہے۔ ترمیم شدہ انتظام کے تحت ریفائنریاں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، اوگرا، کے بجائے وزارتِ توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن یا اس کے نامزد نفاذی ادارے کے ساتھ معاہدے کریں گی۔

کابینہ کو پیش کی گئی سمری کے مطابق پالیسی کے نفاذ کے لیے انٹر اسٹیٹ گیس سسٹمز، آئی ایس جی ایس، کو مرکزی ادارہ نامزد کیا گیا ہے۔ آئی ایس جی ایس ریفائنری اپ گریڈ اکاؤنٹس کھولنے، منصوبوں کی پیش رفت کی نگرانی، تکنیکی مشیروں اور آڈیٹرز کی خدمات حاصل کرنے اور منظور شدہ ترغیبی ادائیگیاں کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔ یہ ذمہ داریاں پہلے اوگرا کے ایسکرو اکاؤنٹ اور ریگولیٹری نگرانی سے زیادہ براہِ راست جڑی ہوئی تھیں۔

ترمیم کے تحت قیمتوں سے حاصل ہونے والی اضافی ترغیبی رقم اوگرا کے ایسکرو اکاؤنٹ کے بجائے پیٹرولیم ڈویژن کے انتظام میں قائم متعلقہ ریفائنری اپ گریڈ اکاؤنٹس میں جمع ہوگی۔ پالیسی میں ایک پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے جس میں تکنیکی اور مالی ماہرین شامل ہوں گے۔ وزارت یہ ذمہ داری اپنے انتظامی کنٹرول میں کسی دوسرے ادارے کو بھی دے سکتی ہے، اور نفاذی اخراجات متعلقہ اپ گریڈ اکاؤنٹس سے ادا کیے جائیں گے۔

حکومت کے مطابق موجودہ ریفائنریوں کی جدید کاری سے فرنس آئل جیسے کم قدر اور زائد پیداوار والے ایندھن کی مقدار کم، جبکہ پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی پیداوار اور معیار بہتر کیا جا سکے گا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ مجموعی منصوبوں کی ممکنہ مالیت تقریباً 6 ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور مقامی پیداوار بڑھنے سے سالانہ قریب ایک ارب ڈالر کے زرمبادلہ کی بچت متوقع ہے۔ یہ سرکاری تخمینے ہیں؛ ابھی تمام سرمایہ کاری موصول، تمام مالی بندوبست مکمل یا بچت عملی طور پر حاصل نہیں ہوئی۔

پالیسی کے تحت آزاد تیسرے فریق کے مشیر کے کردار کو بھی مزید واضح کیا گیا ہے۔ کسی ریفائنری کو منصوبے کی طے شدہ جسمانی پیش رفت پوری نہ کرنے یا معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں خامی دور ہونے تک ترغیب حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس انتظام کا مقصد سرکاری مراعات کو حقیقی تعمیراتی اور تکنیکی پیش رفت سے جوڑنا بتایا گیا ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے 28 جولائی 2026 کو پالیسی ترامیم کی منظوری دی تھی، جنہیں بعد میں وفاقی کابینہ نے توثیق دی۔ 24 اگست کے سرکاری نوٹیفکیشن میں آئی ایس جی ایس کو نفاذی ادارہ نامزد کرنے کی تفصیل سامنے آئی۔ پالیسی میں بار بار تبدیلیاں اس لیے کی گئیں کہ ریفائنریوں، حکومت اور ریگولیٹری اداروں کے درمیان مالی، ٹیکس اور عملی شرائط پر طویل عرصے سے اختلافات موجود تھے۔

پاکستان کی پانچ بڑی موجودہ ریفائنریاں—اٹک ریفائنری، نیشنل ریفائنری، پاکستان ریفائنری، پاک عرب ریفائنری اور سینرجیکو—اپ گریڈ پروگرام میں دلچسپی ظاہر کر چکی ہیں۔ تاہم ہر کمپنی کی حتمی سرمایہ کاری، فنانسنگ، انجینئرنگ ڈیزائن اور تکمیل کی تاریخ الگ معاہدے اور تجارتی فیصلے سے مشروط ہوگی۔ کابینہ کا فیصلہ خود بخود کسی ایک کمپنی کی مکمل سرمایہ کاری کی ضمانت نہیں دیتا۔

تازہ فیصلے کا فوری اثر معاہدوں کے لیے مختصر 45 روزہ مدت اور نفاذی ذمہ داریوں کا نیا ادارہ جاتی بندوبست ہے۔ اگلا قابلِ تصدیق مرحلہ ریفائنریوں کے دستخط شدہ اپ گریڈ معاہدے، مالی بندوبست اور آزاد نگرانی کے تحت عملی تعمیراتی پیش رفت ہوگی۔