اسلام آباد/گلگت: کینیڈا نے پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے، سیلاب سے متاثرہ آبادیوں کی بحالی اور صحت کی خدمات بہتر بنانے کے لیے مجموعی طور پر 35 ملین کینیڈین ڈالر کے دو ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا ہے۔ دی نیشن اور سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کی رپورٹنگ کے مطابق منصوبوں کا اعلان پاکستان میں کینیڈا کے ہائی کمشنر طارق علی خان کے دورہ گلگت بلتستان کے موقع پر کیا گیا۔

پہلا منصوبہ 15 ملین کینیڈین ڈالر مالیت کا Recovery and Climate Resilience in Flood-Affected Areas of Pakistan، یعنی RENEW، پروگرام ہے جسے آغا خان فاؤنڈیشن کے ذریعے نافذ کیا جائے گا۔ اس منصوبے کا ہدف موسمی سیلاب سے متاثر ہونے والی پہاڑی اور ساحلی آبادیوں کو بحالی اور مستقبل کی آفات کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بنانا ہے۔ منصوبے کے جغرافیائی دائرے میں گلگت بلتستان، چترال اور سندھ کے ٹھٹھہ اور بدین اضلاع شامل بتائے گئے ہیں۔

RENEW کے تحت سیلاب سے متاثرہ آبپاشی کے نظام کی بحالی، زرعی زمین کو دوبارہ قابل استعمال بنانے، کاشتکاری کی سرگرمیاں بحال کرنے اور مقامی سطح پر آفات سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر بنانے پر کام کیا جائے گا۔ پروگرام میں خواتین اور لڑکیوں پر خصوصی توجہ دینے کی بات بھی کی گئی ہے، کیونکہ قدرتی آفات اور موسمیاتی دباؤ کے دوران ان کی معاشی اور سماجی کمزوریاں زیادہ نمایاں ہو سکتی ہیں۔ یہ منصوبہ پہلی بار جولائی 2026 میں کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند کے دورہ پاکستان کے دوران اعلان کردہ تعاون سے منسلک ہے۔

دوسرا منصوبہ 20 ملین کینیڈین ڈالر کا کثیر سالہ صحت پروگرام ہے جس میں اقوام متحدہ کا پاپولیشن فنڈ، یو این ایف پی اے، شراکت دار ہے۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق اس پروگرام کا مقصد کمزور آبادیوں، بالخصوص خواتین، لڑکیوں اور بچوں کے لیے صحت کی خدمات اور متعلقہ نظام کی صلاحیت بہتر بنانا ہے۔ دونوں منصوبوں کی مجموعی مالیت 35 ملین کینیڈین ڈالر بنتی ہے۔

پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں سیلاب، شدید بارش، گلیشیائی خطرات اور ساحلی علاقوں میں موسمیاتی دباؤ سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے منصوبوں میں فوری بحالی کے ساتھ طویل مدتی لچک پر توجہ اس لیے اہم ہے کہ متاثرہ کمیونٹیز بار بار ہونے والی آفات کے بعد صرف انفراسٹرکچر ہی نہیں بلکہ روزگار، زراعت اور بنیادی خدمات کے نقصان کا بھی سامنا کرتی ہیں۔

یہ فنڈنگ اعلان شدہ ترقیاتی تعاون ہے؛ اسے تمام رقم فوری طور پر مستفید افراد کو منتقل ہونے یا تمام اہداف حاصل ہو جانے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔ عملی نتائج منصوبوں کے نفاذ، مقامی شراکت داری، مقررہ مدت اور نگرانی کے نظام پر منحصر ہوں گے۔ کینیڈین حکام اور شراکت دار اداروں کے مطابق توجہ بحالی کے ساتھ ایسی صلاحیت پیدا کرنے پر ہے جو مستقبل کی موسمیاتی اور صحت سے متعلق ہنگامی صورتحال میں کمیونٹیز کے تحفظ کو بہتر بنا سکے۔