کوئٹہ: بلوچستان ہائیکورٹ نے کوئٹہ اور گردونواح میں سبزیوں اور چارے کی فصلوں کو غیر صاف شدہ سیوریج کے پانی سے سیراب کیے جانے پر سنگین تشویش ظاہر کی ہے اور متعلقہ سرکاری اداروں سے تفصیلی رپورٹس طلب کرلی ہیں۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ ایسا آلودہ پانی عوامی صحت اور خوراک کے تحفظ کے لیے خطرات پیدا کر سکتا ہے۔

ڈان کے مطابق جسٹس اقبال احمد کاسی اور جسٹس میاں محمد رؤف عطا پر مشتمل دو رکنی بینچ نے بلوچستان انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل، واٹر اینڈ سینی ٹیشن اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر اور کوئٹہ کے ایڈمنسٹریٹر کو ہدایت کی کہ اگلی سماعت سے پہلے معاملے پر جامع رپورٹس پیش کریں۔

عدالت نے اپنے مشاہدات میں کہا کہ غیر صاف شدہ گندے پانی میں آرسینک، بھاری دھاتوں اور دیگر زہریلے آلودہ اجزا کی موجودگی کا امکان ہو سکتا ہے۔ ایسے عناصر آبپاشی کے ذریعے زرعی پیداوار میں داخل ہوں تو خوراک کے استعمال کے نتیجے میں انسانی صحت کے لیے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ عدالت کا یہ بیان ممکنہ خطرات سے متعلق عدالتی تشویش ہے؛ مخصوص کھیتوں یا فصلوں میں کسی خاص مادے کی مقدار کا حتمی سائنسی تعین متعلقہ لیبارٹری ٹیسٹ اور سرکاری رپورٹوں سے ہوگا۔

بینچ نے معاملے کی مکمل جانچ کے لیے درخواست گزار کے وکیل کو بلوچستان فوڈ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کو بھی مقدمے میں فریق بنانے کی ہدایت کی۔ متعلقہ اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ عدالت کو بتائیں کہ غیر صاف شدہ سیوریج کے پانی کے زرعی استعمال کو روکنے کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے گئے، اور گندے پانی کی صفائی اور محفوظ اخراج کے لیے کون سے موجودہ انتظامات دستیاب ہیں۔

کوئٹہ میں پانی کی قلت اور شہری نکاسی آب دونوں طویل عرصے سے انتظامی اور ماحولیاتی چیلنج رہے ہیں۔ زیر زمین پانی پر بڑھتا دباؤ، محدود آبی وسائل اور شہری آبادی میں اضافہ پانی کے استعمال کے متبادل مگر غیر محفوظ طریقوں کو جنم دے سکتا ہے۔ تاہم خوراک کی فصلوں کے لیے آلودہ پانی کا استعمال صحت عامہ کے نقطہ نظر سے الگ نگرانی اور معیار کا تقاضا کرتا ہے۔

عدالت نے ابھی کسی ادارے کے خلاف حتمی ذمہ داری یا قانونی خلاف ورزی کا فیصلہ نہیں دیا۔ موجودہ مرحلے پر حکم کا مقصد متعلقہ محکموں سے حقائق، موجودہ نظام اور روک تھام کے اقدامات کی تفصیل حاصل کرنا ہے۔ آئندہ سماعت میں پیش ہونے والی رپورٹس سے یہ واضح ہونے کی توقع ہے کہ سیوریج کی صفائی کی موجودہ صلاحیت کتنی ہے، متاثرہ علاقوں کی نگرانی کس طرح کی جا رہی ہے اور زرعی استعمال روکنے کے لیے عملی اقدامات کہاں تک پہنچے ہیں۔

اس معاملے کے نتائج کوئٹہ میں شہری نکاسی آب، زرعی آبپاشی اور فوڈ سیفٹی کے باہمی تعلق کے لیے اہم ہو سکتے ہیں۔ اگر عدالت کو سرکاری رپورٹوں میں خامیاں یا عمل درآمد کی کمی نظر آتی ہے تو آئندہ مزید ہدایات جاری کی جا سکتی ہیں، تاہم اس مرحلے پر عدالتی کارروائی رپورٹ طلب کرنے اور خطرات کی جانچ تک محدود ہے۔