تھنڈر بے: کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت امریکا کے ساتھ ایسا تجارتی معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہے جو دونوں ممالک کے کارکنوں، خاندانوں، کاروباروں اور صارفین کے مفاد میں ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی سمجھوتے میں استحکام اور قابلِ اعتماد قواعد بنیادی شرط ہوں گے۔
کارنی نے اونٹاریو کے شہر تھنڈر بے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا مذاکرات کی میز پر واپس آنے کے لیے تیار ہے جب امریکی فریق بھی باہمی مفاد پر مبنی معاہدے کے لیے تیار ہو۔ ان کے مطابق حالیہ امریکی مؤقف میں بعض نرمی کے آثار مذاکرات کی بحالی کے لیے گنجائش پیدا کر سکتے ہیں۔
کینیڈین وزیراعظم نے امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک اور وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے ان دعوؤں سے اختلاف کیا کہ اوٹاوا نے داخلی سیاست کی وجہ سے مذاکرات سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا۔ کارنی نے کہا کہ یہ تشریح کینیڈا کی سیاسی صورتحال کی درست عکاسی نہیں کرتی۔
امریکا اور کینیڈا دنیا کے سب سے بڑے دو طرفہ تجارتی شراکت داروں میں شامل ہیں اور گاڑیوں، توانائی، زرعی مصنوعات، معدنیات اور صنعتی سپلائی چین میں دونوں معیشتیں گہرے طور پر منسلک ہیں۔ اسی وجہ سے محصولات یا تجارتی قواعد میں تبدیلی کا اثر سرحد کے دونوں طرف کاروبار اور قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔
کارنی کے بیان سے مذاکرات کی سیاسی خواہش تو ظاہر ہوتی ہے، لیکن کسی نئے معاہدے کی شرائط، وقت اور حتمی شکل ابھی طے نہیں ہوئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کینیڈا کے ساتھ اختلافات پر سخت مؤقف اپنایا ہے۔ آئندہ پیش رفت اس بات پر منحصر ہوگی کہ دونوں حکومتیں متنازع نکات پر کتنی لچک دکھاتی ہیں اور آیا وہ طویل مدتی تجارتی استحکام کے لیے مشترکہ فریم ورک پر متفق ہو سکتی ہیں۔




