وفاقی حکومت گیس کے مزید ٹیرف سلیب متعارف کرانے اور محفوظ صارفین کی درجہ بندی کو وسیع کرنے کی تجویز کا جائزہ لے رہی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی، سی سی او ای، نے وزارت توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن کو ہدایت کی کہ گیس شعبے میں محفوظ صارفین کی زیادہ معقول درجہ بندی کے امکانات کا جائزہ لیا جائے۔ تجویز کا مقصد بعض صارفین کو نسبتاً کم نرخ پر گیس فراہم کرنے کے لیے موجودہ محفوظ زمرے کا دائرہ بڑھانا بتایا گیا ہے۔
اجلاس میں گیس شعبے کے گردشی قرض پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ پیٹرولیم ڈویژن نے عالمی بینک اور مشاورتی ادارے کے پی ایم جی کے جائزوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 2019 سے 2023 کے دوران گردشی قرض میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کی بڑی وجوہ میں صارف گیس قیمتوں میں بروقت اضافہ نہ ہونا اور آر ایل این جی کو گھریلو صارفین کی طرف منتقل کرنا شامل تھا۔ آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے ساتھ طے تعریف کے مطابق گیس شعبے کا گردشی قرض پالیسی اور ریگولیٹری فیصلوں کے باعث سوئی کمپنیوں پر آنے والے خالص مالی بوجھ سے متعلق ہے۔
بریفنگ میں تاخیر سے ٹیرف ایڈجسٹمنٹ، اوگرا کی مقررہ ریونیو ضرورت اور وصولیوں کے فرق، پاور سیکٹر سے کم ریکوری، سردیوں میں آر ایل این جی کی گھریلو شعبے کو منتقلی، سبسڈی کے لیے ناکافی بجٹ، ایف بی آر کے پاس زیر التوا جی ایس ٹی ریفنڈز، قیمتوں کے نوٹیفکیشن پر قانونی مقدمات اور صنعتی و سی این جی طلب میں کمی کو بھی قرض بڑھنے کے عوامل میں شمار کیا گیا۔ پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق جون 2019 سے جون 2023 تک قرض کا رجحان تیزی سے بڑھا، جبکہ جون 2023 سے جون 2026 تک رفتار نسبتاً ہموار رہی۔
ڈویژن نے پاور سیکٹر سے واجبات کے تصفیے، آر ایل این جی ایکچولائزیشن ٹیرف کے 42 ارب روپے، ایف بی آر سے 83 ارب روپے جی ایس ٹی ریفنڈ اور گھریلو کراس سبسڈی ختم کرنے کے لیے 160 ارب روپے کی بجٹ فراہمی جیسے معاملات اٹھائے۔ سی سی او ای نے متعلقہ وزارتوں کو ان مسائل پر مشاورت سے حل تلاش کرنے کی ہدایت دی۔ اہم بات یہ ہے کہ مزید ٹیرف سلیب ابھی تجویز اور جائزے کے مرحلے میں ہیں؛ کوئی نیا حتمی نرخ یا صارف حد اس رپورٹ میں نوٹیفائی نہیں کی گئی۔
