کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان نے فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ کی جانب سے ایگری ٹیک لمیٹڈ کے شیئرز کے حصول سے متعلق ٹرانزیکشن کا فیز ون مسابقتی جائزہ مکمل کرکے اسے منظور کر لیا ہے۔ کمیشن کے مطابق جائزے میں کھاد کی متعلقہ منڈیوں، دونوں کمپنیوں کے حصص اور ممکنہ مسابقتی اثرات کا تجزیہ کیا گیا۔
ٹرانزیکشن کے تحت فاطمہ فرٹیلائزر نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے ایگری ٹیک کے شیئرز دو مراحل میں حاصل کیے تھے، ابتدائی خریداری 2023 اور اضافی خریداری 2024 میں ہوئی۔ کمیشن نے جائزے کے لیے دونوں مراحل میں حاصل ہونے والی مجموعی شیئر ہولڈنگ کو مدنظر رکھا۔
فاطمہ فرٹیلائزر کھاد اور کیمیکل کی تیاری، فروخت، درآمد اور برآمد کے کاروبار میں ہے، جبکہ ایگری ٹیک یوریا اور دانے دار سنگل سپر فاسفیٹ، SSP، تیار اور فروخت کرتی ہے۔ سی سی پی نے یوریا اور ایس ایس پی کو متعلقہ پراڈکٹ مارکیٹس اور پاکستان کو متعلقہ جغرافیائی مارکیٹ قرار دے کر مارکیٹ کے ڈھانچے اور کمپنیوں کی پوزیشن کا جائزہ لیا۔
کمیشن کو یوریا مارکیٹ میں دونوں کمپنیوں کے کاروبار کا افقی اوورلیپ ملا، جس سے ان کا مشترکہ مارکیٹ شیئر بڑھتا تھا۔ ایس ایس پی میں فاطمہ فرٹیلائزر کا مارکیٹ شیئر نہیں تھا، اس لیے اس مارکیٹ میں ایگری ٹیک کی پوزیشن ٹرانزیکشن سے تبدیل نہیں ہوئی۔
جائزے کے دوران فاطمہ فرٹیلائزر نے کمیشن کو بتایا کہ وہ ایگری ٹیک میں اپنی پوری شیئر ہولڈنگ فروخت کر چکی ہے اور کمپنی کا کنٹرول حاصل کرنے کا مزید ارادہ نہیں رکھتی۔ نتیجتاً کمیشن کے حتمی تعین کے وقت فاطمہ فرٹیلائزر کے پاس ایگری ٹیک کے شیئرز موجود نہیں تھے۔ اس بعد کی پیش رفت کو بھی مسابقتی جائزے میں مدنظر رکھا گیا۔
سی سی پی نے نتیجہ اخذ کیا کہ موجودہ حالات میں ٹرانزیکشن متعلقہ منڈیوں میں مسابقت کو نمایاں طور پر کم کرنے، نئی کمپنیوں کے داخلے میں بڑی رکاوٹ پیدا کرنے یا کسی غالب پوزیشن کو قائم یا مضبوط کرنے کا خطرہ نہیں رکھتی۔ اسی بنیاد پر اسے کمپٹیشن ایکٹ 2010 کی متعلقہ شق کے تحت منظور کیا گیا۔
کھاد پاکستان کی زرعی پیداوار کے لیے بنیادی ان پٹس میں شامل ہے، اس لیے سی سی پی نے کہا کہ اس شعبے میں انضمام اور شیئرز کے بڑے لین دین کا مؤثر جائزہ کسانوں، قیمتوں اور قومی معیشت کے وسیع تر مفاد کے لیے اہم ہے۔ منظوری کا مطلب یہ نہیں کہ کمیشن نے کسی آئندہ الگ ٹرانزیکشن کو پیشگی اجازت دے دی ہے؛ مستقبل کے معاملات اپنی قانونی شرائط کے مطابق جانچے جائیں گے۔
