پاکستان اور پولینڈ نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور کاروباری روابط میں توسیع پر اتفاق کیا ہے۔ اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف نے پولینڈ کے وزیر اور کونسل آف منسٹرز کے رکن توماش شیمونیاک سے ملاقات کی، جس میں دونوں ملکوں کے درمیان طویل مدتی اور کثیرالجہتی شراکت داری بڑھانے کے امکانات پر گفتگو ہوئی۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان پولینڈ کے ساتھ دیرینہ دوستانہ تعلقات کو زیادہ مضبوط اقتصادی اور ادارہ جاتی تعاون میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے اعلیٰ سطح رابطوں اور دونوں ملکوں کی کاروباری برادریوں کے درمیان براہ راست تعامل بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ تجارت، سرمایہ کاری اور دیگر شعبوں میں نئے مواقع تلاش کیے جا سکیں۔

شہباز شریف نے یورپی یونین کی جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پلس، جی ایس پی پلس، کے تحت پاکستان کے لیے پولینڈ کی حمایت کو سراہا۔ یہ تجارتی انتظام پاکستان کی متعدد مصنوعات کو یورپی منڈی تک ترجیحی رسائی فراہم کرتا ہے، اس لیے یورپی یونین کے رکن ممالک کے ساتھ سیاسی اور تجارتی رابطے پاکستان کی برآمدی حکمت عملی میں اہم سمجھے جاتے ہیں۔

ملاقات میں کسی نئے مخصوص تجارتی معاہدے، سرمایہ کاری منصوبے یا مالیاتی پیکیج کی حتمی مالیت کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے تازہ پیش رفت کو کاروباری تعاون بڑھانے کے سیاسی و سفارتی عزم کے طور پر دیکھنا چاہیے، جبکہ عملی تجارتی نتائج مستقبل کے معاہدوں، نجی شعبے کے روابط اور متعلقہ اداروں کی پیش رفت پر منحصر ہوں گے۔

دونوں فریقوں نے اہم علاقائی اور بین الاقوامی معاملات، خصوصاً مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نے علاقائی کشیدگی کے حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کی اہمیت دہرائی اور کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پرامن طریقوں کی حمایت کرتا ہے۔

پاکستان اور پولینڈ کے درمیان مستقبل میں تعاون کے ممکنہ شعبوں میں تجارت، صنعت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور ادارہ جاتی رابطے شامل ہو سکتے ہیں، تاہم دستیاب سرکاری بیان میں ہر شعبے کے لیے الگ اہداف مقرر نہیں کیے گئے۔ دونوں ملکوں کے درمیان کاروباری روابط کی حقیقی توسیع آئندہ دوروں، تجارتی وفود اور نجی کمپنیوں کے فیصلوں سے زیادہ واضح ہوگی۔