وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو موسم سرما کے لیے جامع گیس لوڈ مینجمنٹ پلان تیار کرنے اور علاقائی صورتحال کے پیش نظر گیس کی درآمدات بلا تعطل رکھنے کے لیے پیشگی اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ اسلام آباد میں اعلیٰ سطح اجلاس کے دوران سردیوں میں مقامی گیس اور درآمدی آر ایل این جی کی تقسیم، ترسیل اور متبادل توانائی کے استعمال سے متعلق تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم آفس کے مطابق اجلاس کو بتایا گیا کہ مقامی طور پر پیدا ہونے والی گیس کی فراہمی میں گھریلو صارفین کو اولین ترجیح دی جائے گی۔ دوسری جانب درآمدی ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس، آر ایل این جی، بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس اور صنعتی شعبے کے لیے ترجیحی بنیاد پر استعمال کرنے کی حکمت عملی زیر غور ہے۔
وزیراعظم نے گیس لوڈ مینجمنٹ پلان کے نفاذ کے ساتھ وسیع عوامی آگاہی مہم چلانے کی بھی ہدایت کی۔ حکام نے بتایا کہ گھروں میں مقامی گیس پر انحصار کم کرنے کے لیے متبادل توانائی ذرائع کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ پانی اور جگہ گرم کرنے کے لیے بجلی سے چلنے والے آلات کی خریداری پر بینک فنانسنگ کی سہولت متعارف کرانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
اجلاس میں ملک کے شمالی علاقوں میں موجود قدرتی گیس ذخائر سے ترسیل بلا تعطل رکھنے کے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ حکومت کے لیے سردیوں کی منصوبہ بندی اس لیے اہم ہے کہ گھریلو طلب میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ درآمدی ایل این جی کی دستیابی اور قیمتیں بین الاقوامی منڈی اور خطے کی سکیورٹی صورتحال سے متاثر ہو سکتی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق دسمبر سے فروری کے عرصے کے لیے اضافی ایل این جی کارگوز کی ضرورت پر بھی کام جاری ہے، تاہم درآمدی مقدار اور اس کی مالی منظوری ابھی مکمل طور پر حتمی نہیں۔ ہر اسپاٹ کارگو کی لاگت، زرمبادلہ کی ضرورت اور موجودہ کھاتے پر اثر کے باعث وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک کی منظوری اہم ہوگی۔
حکومت نے ابھی صارفین کے لیے حتمی یومیہ لوڈشیڈنگ شیڈول جاری نہیں کیا۔ موجودہ پیش رفت پالیسی اور تیاری کے مرحلے سے متعلق ہے، اس لیے کسی مخصوص شہر یا علاقے میں گیس کی یقینی دستیابی یا بندش کے اوقات کے بارے میں حتمی دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔ تفصیلی شیڈول متعلقہ گیس کمپنیوں اور حکام کی آئندہ ہدایات سے واضح ہوگا۔

