وزیراعظم شہباز شریف نے 6 اکتوبر کو اسلام آباد میں سردیوں کے دوران گیس کی دستیابی سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو جامع لوڈ مینجمنٹ پلان تیار کرنے اور درآمدی گیس کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے پیشگی اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم آفس کے بیان، جسے ڈان نے رپورٹ کیا، کے مطابق منصوبے میں صارفین کو پیشگی آگاہ کرنے کے لیے وسیع عوامی مہم اور موجودہ علاقائی صورتحال کے پیش نظر درآمدی انتظامات کو محفوظ بنانے کے اقدامات شامل ہوں گے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ مقامی طور پر پیدا ہونے والی گیس کی فراہمی میں گھریلو صارفین کو ترجیح دی جائے گی، جبکہ درآمدی آر ایل این جی کو بجلی کی پیداوار اور صنعتی شعبے کے لیے ترجیحی بنیاد پر مختص کرنے کی تجویز ہے۔ حکومت گھریلو سطح پر متبادل توانائی کے ذرائع کے استعمال کی ترغیب دینے کے لیے بھی آگاہی مہم شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ وزیراعظم آفس کے مطابق ملک کے شمالی علاقوں میں موجود ذخائر سے گیس کی بلا تعطل ترسیل یقینی بنانے کے اقدامات بھی زیر عمل ہیں۔
اجلاس میں پانی اور کمروں کو گرم کرنے کے لیے استعمال ہونے والے برقی آلات کی خریداری پر بینک فنانسنگ کی سہولت متعارف کرانے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔ حکام کا مقصد یہ ہے کہ سرد موسم میں مقامی گیس پر دباؤ کم کرنے کے لیے صارفین کو متبادل ذرائع کی طرف منتقل ہونے کے عملی راستے فراہم کیے جائیں۔ اس تجویز کی منظوری یا حتمی شرائط کا اعلان ابھی نہیں ہوا۔
ڈان کے مطابق یہ اجلاس ایسے وقت ہوا جب حکام دسمبر سے فروری تک تین سرد مہینوں کے لیے ایل این جی درآمدی منصوبہ حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں امریکا ایران کشیدگی نے آبنائے ہرمز اور باب المندب سمیت اہم توانائی راستوں کے بارے میں خدشات بڑھائے ہیں اور بین الاقوامی ایندھن قیمتوں پر بھی دباؤ ڈالا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ گیس کمپنیوں اور پیٹرولیم ڈویژن نے موسم سرما کے لیے کم از کم 22 کارگوز کی ضرورت ظاہر کی، تاہم توانائی ٹاسک فورس 10 سے 12 کارگوز تک انتظام کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مارکیٹ حالات کے باعث حقیقی درآمدات اس سے بھی کم رہنے کا امکان بتایا گیا ہے۔
ایل این جی کی درآمدی مقدار مالیاتی پالیسی سے بھی جڑی ہوئی ہے کیونکہ ہر اسپاٹ کارگو پر بھاری زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے اور درآمدی منصوبہ موجودہ کھاتے کے ان اہداف کو متاثر کر سکتا ہے جن پر وزارت خزانہ اور آئی ایم ایف کی نظر ہے۔ اسی لیے سردیوں کی گیس پالیسی میں گھریلو طلب، صنعت و بجلی کے ایندھن، زرمبادلہ کی لاگت اور علاقائی رسد کے خطرات کو ایک ساتھ متوازن کرنے کی ضرورت ہوگی۔ حکومت نے ابھی حتمی لوڈ مینجمنٹ شیڈول یا صارفین کے لیے ممکنہ بندش کے اوقات جاری نہیں کیے۔
