اسلام آباد: مسابقتی کمیشن پاکستان نے سٹی فارما لمیٹڈ کی جانب سے پاک ہیم انٹرنیشنل فارما (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے مکمل حصول کو ابتدائی مسابقتی جائزے کے بعد منظور کر لیا ہے۔ کمیشن کے فیز ون آرڈر کے مطابق مجوزہ لین دین سے متعلق پانچ ادویاتی منڈیوں کا جائزہ لیا گیا اور کسی ایسی نمایاں مسابقتی رکاوٹ کی نشاندہی نہیں ہوئی جو حصول کو روکنے کا جواز بنے۔
یہ خریداری 6 مئی 2026 کو طے پانے والے شیئر پرچیز معاہدے کے تحت کی جا رہی ہے۔ معاہدہ مکمل ہونے پر پاک ہیم سٹی فارما کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی بن جائے گی۔ مسابقتی کمیشن نے لین دین کے اثرات کا جائزہ پاکستان میں اینٹی بایوٹک، السر کے علاج، درد کش، اینٹی الرجک اور ذیابیطس کی ادویات کی متعلقہ منڈیوں میں لیا۔
کمیشن کے مطابق اینٹی بایوٹک، درد کش اور اینٹی ڈائبٹک فارمولیشنز میں دونوں کمپنیوں کی سرگرمیوں کا کچھ باہمی اشتراک موجود تھا، لیکن پاک ہیم کا مارکیٹ حصہ اتنا محدود تھا کہ اس اشتراک کو مسابقت کے لیے نمایاں خطرہ نہیں سمجھا گیا۔ دیگر زیر جائزہ شعبوں میں بھی کمیشن کو ایسی ساختی تبدیلی نظر نہیں آئی جو قیمت، رسد یا صارفین کے انتخاب پر قابل ذکر منفی اثر ڈالنے کا امکان ظاہر کرے۔
پاک ہیم فروری 2007 میں قائم ہوئی اور تیار شدہ دواسازی مصنوعات بناتی ہے۔ سٹی فارما پاکستان میں دواسازی کے خام مال اور تیار مصنوعات کے شعبے میں کام کرتی ہے۔ مکمل شیئر ہولڈنگ کے حصول سے پاک ہیم کی ملکیت تبدیل ہوگی، تاہم مسابقتی کمیشن کا فیز ون فیصلہ بنیادی طور پر اس سوال تک محدود ہے کہ آیا اس کاروباری انضمام سے متعلقہ منڈیوں میں مؤثر مسابقت نمایاں طور پر کم ہوگی۔
کمیشن کی منظوری کو ادویات کے معیار، قیمتوں یا مستقبل کی کاروباری کارکردگی کی ضمانت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ یہ فیصلہ مسابقتی قانون کے تحت لین دین کے مارکیٹ اثرات کی جانچ کا نتیجہ ہے۔ ادویات کی تیاری اور فروخت پر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی اور دیگر متعلقہ قوانین و لائسنسنگ تقاضے بدستور لاگو رہیں گے۔
پاکستان کے دواسازی شعبے میں انضمام اور حصول کی سرگرمی سرمایہ، پیداواری صلاحیت اور مصنوعات کے پورٹ فولیو میں تبدیلی لا سکتی ہے، اسی لیے بڑے لین دین کا مسابقتی جائزہ اہم ہوتا ہے۔ اس معاملے میں کمیشن نے دستیاب مارکیٹ حصوں اور مصنوعات کے باہمی اشتراک کو دیکھتے ہوئے نتیجہ اخذ کیا کہ مجوزہ حصول سے مسابقت کو خاطر خواہ نقصان پہنچنے کا امکان نہیں، اور اسی بنیاد پر فیز ون میں لین دین کی اجازت دی گئی۔

