اسلام آباد: کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے بحریہ ٹاؤن کے فیز III-E اور IV کے 2,999 کنال پر محیط لے آؤٹ پلان کی منظوری واپس لے لی ہے۔ سی ڈی اے کے ہاؤسنگ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کو جاری خط کے مطابق یہ فیصلہ منصوبے سے متعلق شرائط اور این او سی کے تقاضے پورے نہ کرنے کے الزامات کی بنیاد پر کیا گیا۔ مذکورہ لے آؤٹ پلان دسمبر 2010 میں شرائط کی تکمیل سے مشروط طور پر منظور کیا گیا تھا۔
سی ڈی اے کے خط میں الزام عائد کیا گیا کہ تقریباً 15 سال گزرنے کے باوجود اسکیموں کے لیے این او سی حاصل کرنے کی پیشگی شرائط پوری نہیں کی گئیں۔ اتھارٹی کے مطابق 2025 میں انتظامیہ کو ہدایت کی گئی تھی کہ پارکس، کھیل کے میدانوں، کھلی جگہوں اور عوامی عمارتوں سمیت عوامی سہولتوں کے لیے مختص پلاٹس خالی کرا کے انہیں منظور شدہ لے آؤٹ پلان کے مطابق بحال کیا جائے۔ بحریہ ٹاؤن کی جانب سے نوٹس کا جواب جمع کرایا گیا، تاہم سی ڈی اے نے اسے حقائق کے مطابق نہ ہونے کا مؤقف اختیار کرتے ہوئے قبول نہیں کیا۔
سی ڈی اے نے اس کے بعد انتظامیہ کو حتمی شوکاز نوٹس بھی جاری کیا تھا۔ اتھارٹی کے خط میں وفاقی آڈٹ کے ایک اعتراض کا بھی حوالہ دیا گیا، جس میں کارنیش روڈ کے ساتھ بعض تجارتی تعمیرات کے بارے میں سوالات اٹھائے گئے تھے۔ سی ڈی اے کے مطابق متعلقہ محکمانہ اکاؤنٹس کمیٹی نے بھی مبینہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی تھی۔ یہ تمام نکات سی ڈی اے کا مؤقف ہیں اور انہیں کسی عدالتی فیصلے کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔
اتھارٹی نے لے آؤٹ پلان منسوخ کرنے کے ساتھ بحریہ ٹاؤن پر سی ڈی اے کا نادہندہ ہونے کا مؤقف اختیار کرتے ہوئے کمپنی کے دیگر کیسز کی منظوری اور پراسیسنگ معطل کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ ہاؤسنگ ڈائریکٹوریٹ نے انفورسمنٹ ونگ کو اسکیم میں مبینہ طور پر قواعد کے خلاف تعمیر کیے گئے کاموں، عمارتوں یا ڈھانچوں کے خلاف کارروائی کے لیے کہا ہے۔ اس کارروائی کی عملی حدود اور آئندہ مراحل متعلقہ قانونی و انتظامی عمل کے تحت واضح ہوں گے۔
دوسری جانب بحریہ ٹاؤن کے ایک عہدیدار نے سی ڈی اے کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کمپنی نے نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلان منظوری کے لیے جمع کرایا تھا لیکن اتھارٹی نے سابقہ پلان ہی منسوخ کر دیا۔ عہدیدار کے مطابق کمپنی دستیاب فورمز، بشمول عدالتوں، میں اس اقدام کو چیلنج کرے گی۔ اس طرح معاملہ اب سی ڈی اے کے انتظامی فیصلے اور کمپنی کے اعتراض کے درمیان متنازع حیثیت رکھتا ہے، اور حتمی قانونی نتیجہ مستقبل کی کارروائی سے طے ہوگا۔
