اسلام آباد: سپریم کورٹ نے 17 ستمبر کو انسانی حقوق کی وکیل ایمان زینب مزاری حاضر اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق مقدمے میں سنائی گئی سزائیں معطل کر دیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی جب عدالت عظمیٰ کا دو رکنی بینچ، جس میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے سزاؤں کی معطلی سے انکار کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت کر رہا تھا۔
دستیاب عدالتی رپورٹنگ کے مطابق اسلام آباد کی سیشن عدالت نے 24 جنوری کو دونوں ملزمان کو پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کے تحت مختلف الزامات میں مجموعی طور پر 17 برس قید کی سزائیں سنائی تھیں۔ اس سزا کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے دوران معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ اور بعد ازاں سپریم کورٹ پہنچا۔ تازہ حکم سزا کے حتمی خاتمے یا اپیل کے آخری فیصلے کے مترادف نہیں بلکہ زیر سماعت اپیلوں کے دوران سزا کی معطلی سے متعلق عدالتی ریلیف ہے۔
رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے اس سے قبل دونوں کو دو، دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت دیتے ہوئے رہائی کا حکم بھی دیا تھا اور ان کی رہائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے حتمی فیصلے تک برقرار رکھنے کا حکم دیا گیا۔ سماعت کے دوران بینچ نے وکلا کے پیشہ ورانہ کردار اور عدالتی آداب سے متعلق بھی ریمارکس دیے۔
یہ مقدمہ سوشل میڈیا پر اظہار، سائبر قوانین کے اطلاق اور فوجداری کارروائی کے تناظر میں خاص توجہ کا مرکز رہا ہے۔ تاہم موجودہ مرحلے پر بنیادی قانونی حقیقت یہی ہے کہ سزا معطل ہوئی ہے، جبکہ اصل اپیل اور مقدمے کے دیگر قانونی نکات کا حتمی تعین متعلقہ عدالتی کارروائی میں ہونا باقی ہے۔ فریقین کے دعووں اور سابقہ الزامات کو حتمی عدالتی نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا جب تک اپیلوں پر آخری فیصلہ سامنے نہ آ جائے۔
