اسلام آباد: دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اگلے ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان کے وفد کی قیادت کریں گے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وفاقی وزرا اور اعلیٰ حکام بھی ہوں گے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان عالمی فورمز پر موسمیاتی خطرات، ترقی پذیر ممالک کے مالی مسائل، دہشت گردی کے خلاف تعاون اور بین الاقوامی اداروں میں اصلاحات سے متعلق اپنے مؤقف کو نمایاں کر رہا ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم جنرل اسمبلی سے خطاب میں پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی، انسداد دہشت گردی، اسلاموفوبیا، عالمی اقتصادی چیلنجز، اقوام متحدہ میں اصلاحات اور گلوبل ساؤتھ کو درپیش مسائل پر پاکستان کی ترجیحات پیش کریں گے۔ حکومت کی جانب سے ابھی مکمل سفارتی شیڈول اور تمام دوطرفہ ملاقاتوں کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، اس لیے کسی ممکنہ ملاقات یا اس کے نتیجے کے بارے میں پیشگی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اعلیٰ سطحی اجلاس رکن ممالک کو خارجہ پالیسی کے اہم نکات براہ راست عالمی برادری کے سامنے رکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ پاکستان کے لیے موسمیاتی تبدیلی کا موضوع گزشتہ برسوں میں خاص اہمیت اختیار کر چکا ہے، جبکہ ترقی پذیر معیشتوں کے قرض، مالیاتی گنجائش اور پائیدار ترقی کے اہداف بھی اس کے سفارتی بیانیے کا حصہ رہے ہیں۔ دفتر خارجہ کی بریفنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس بار بھی ان موضوعات کو خطاب میں نمایاں جگہ دی جائے گی۔

انسداد دہشت گردی اور اسلاموفوبیا بھی اعلان کردہ ایجنڈے میں شامل ہیں۔ پاکستان ماضی میں اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر مذہبی منافرت کے خلاف بین الاقوامی تعاون اور دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات پر زور دیتا رہا ہے۔ ترجمان کے بیان کے مطابق وزیراعظم ان امور کو موجودہ عالمی تناظر میں اٹھائیں گے، تاہم خطاب کا حتمی متن اجلاس کے موقع پر ہی واضح ہوگا۔

وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اور دیگر اعلیٰ حکام کی شمولیت سے توقع ہے کہ جنرل اسمبلی کے مرکزی اجلاس کے ساتھ سفارتی رابطوں کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔ دفتر خارجہ نے فی الحال وزیراعظم کی شرکت اور خطاب کے بنیادی موضوعات کی تصدیق کی ہے۔ مزید ملاقاتوں، اوقات اور مشترکہ اعلانات کے بارے میں سرکاری تفصیلات سامنے آنے پر ہی ان کی حتمی نوعیت واضح ہوگی۔