اسلام آباد: پاکستان نے ورلڈ اکنامک فورم کے گلوبل جینڈر گیپ انڈیکس 2026 میں پانچ درجے بہتری حاصل کی ہے اور 145 معیشتوں میں 143ویں نمبر پر آگیا ہے۔ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق مشال پاکستان کی جانب سے جاری معلومات میں بتایا گیا کہ ملک کا مجموعی صنفی مساوات اسکور 2025 کے 56.7 فیصد سے بڑھ کر 2026 میں 59.5 فیصد ہوگیا۔
اعدادوشمار کے مطابق سالانہ بنیاد پر اسکور میں 2.8 فیصد پوائنٹس کی بہتری ریکارڈ ہوئی، جسے گزشتہ ایک دہائی میں پاکستان کی سب سے نمایاں سالانہ پیش رفت قرار دیا گیا۔ 2025 میں پاکستان 148ویں پوزیشن پر تھا، جبکہ نئی رپورٹ میں درجہ بندی 143 ہوگئی۔ تاہم نئی فہرست میں مجموعی معیشتوں کی تعداد 145 ہے، اس لیے صرف پوزیشن کے فرق کو مکمل پیش رفت سمجھنے کے بجائے اسکور اور مختلف اشاریوں کو بھی ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 2006 کے مقابلے میں پاکستان نے اپنا مجموعی صنفی فرق 5.2 فیصد پوائنٹس کم کیا ہے۔ 2006 میں ملک کا صنفی مساوات اسکور 54.3 فیصد تھا۔ اس کے باوجود پاکستان اب بھی انڈیکس کے آخری حصے میں شامل ہے، جو تعلیم، معاشی شرکت، صحت اور سیاسی نمائندگی جیسے شعبوں میں بڑی عدم مساوات کی موجودگی کی نشاندہی کرتا ہے۔
گلوبل جینڈر گیپ انڈیکس ممالک میں خواتین اور مردوں کے درمیان دستیاب مواقع اور نتائج کے فرق کو مختلف ذیلی اشاریوں کے ذریعے ناپتا ہے۔ اس کا مقصد کسی ملک کی مجموعی دولت یا ترقی کی سطح ناپنا نہیں بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ دستیاب وسائل اور مواقع تک دونوں جنسوں کی رسائی میں کتنا فرق باقی ہے۔ اسی لیے درجہ بندی میں بہتری کے باوجود ہر شعبے کے الگ نتائج پالیسی کے لیے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔
پاکستان کے نئے اسکور سے ایک سال میں قابل ذکر عددی بہتری ظاہر ہوتی ہے، لیکن 143ویں پوزیشن یہ بھی واضح کرتی ہے کہ صنفی مساوات کا مجموعی فاصلہ اب بھی وسیع ہے۔ رپورٹ کے تفصیلی اشاریے پالیسی سازوں، کاروباری اداروں اور سماجی شعبے کے لیے یہ شناخت کرنے میں مدد دے سکتے ہیں کہ خواتین کی معاشی شرکت، تعلیم، صحت اور فیصلہ سازی میں کن رکاوٹوں پر مزید کام درکار ہے۔
