اسلام آباد: کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے کہا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں تجاوزات کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران تقریباً 1.3 ٹریلین روپے مالیت کی سرکاری زمین واگزار کرائی گئی ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق سی ڈی اے نے اس کارروائی کو سرکاری املاک کے تحفظ اور مختلف سیکٹروں میں طویل عرصے سے رکی ہوئی ترقیاتی سرگرمیوں کی بحالی سے جوڑا ہے۔

اتھارٹی کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق وزیراعظم ہاؤس کے قریب تقریباً 600 ایکڑ سرکاری زمین واپس لی گئی۔ سیکٹر ای-12 میں 1,135 کنال زمین واگزار کرانے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جس کے بارے میں سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ اس سے کئی دہائیوں سے تعطل کا شکار ترقیاتی کام دوبارہ شروع کرنے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ ای-12 اسلام آباد کے ان رہائشی سیکٹروں میں شامل ہے جہاں زمین، قبضے اور ترقیاتی کاموں سے متعلق معاملات طویل عرصے سے شہریوں اور الاٹیوں کیلئے اہم مسئلہ رہے ہیں۔

سی ڈی اے کے مطابق سیکٹر سی-17 میں 116.8 کنال زمین پر قائم غیر قانونی تجارتی تعمیرات بھی مسمار کی گئی ہیں۔ مری روڈ پر ملپور کے علاقے میں پانچ پلازے خالی کرائے گئے، جبکہ مزید 108 کنال زمین کی واگزاری کیلئے کارروائی جاری ہے۔ ان مقامات پر کارروائی کی نوعیت اور قانونی حیثیت کے بارے میں اتھارٹی کا مؤقف ہے کہ نفاذ سے پہلے سروے، ریونیو ریکارڈ کی تصدیق، ملکیتی دستاویزات کی جانچ اور قانونی جائزہ لیا گیا۔

اتھارٹی نے 1.3 ٹریلین روپے کی مجموعی مالیت کو اپنی واگزار کرائی گئی سرکاری اراضی کی تخمینی قدر کے طور پر پیش کیا ہے۔ دستیاب رپورٹ میں اس قدر کے تعین کا تفصیلی valuation methodology بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اسے سی ڈی اے کا سرکاری تخمینہ سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ کسی آزادانہ آڈٹ سے تصدیق شدہ مارکیٹ valuation۔ اسی طرح زمین واگزار ہونے اور تمام منصوبہ بند ترقیاتی کام مکمل ہونے کے درمیان مزید انتظامی، مالی اور تعمیراتی مراحل باقی ہوسکتے ہیں۔

سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ مہم کا مقصد سرکاری زمین کو غیر قانونی قبضوں سے محفوظ کرنا اور اسے منظور شدہ منصوبوں کے مطابق استعمال میں لانا ہے۔ خاص طور پر ای-12 میں زمین کی دستیابی سے انفراسٹرکچر اور دیگر ترقیاتی سرگرمیوں کی رفتار بڑھنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ تاہم کسی بھی مخصوص منصوبے کی تکمیل کی تاریخ یا واگزار زمین پر آئندہ کام کا مکمل شیڈول اس اعلان میں فراہم نہیں کیا گیا۔

وفاقی دارالحکومت میں زمین کے ریکارڈ، تجاوزات اور دیرینہ سیکٹر ڈویلپمنٹ کے مسائل شہری منصوبہ بندی کیلئے مسلسل چیلنج رہے ہیں۔ تازہ کارروائی کا عملی اثر اس بات سے واضح ہوگا کہ واگزار زمین پر منظور شدہ منصوبے کتنی جلد شروع ہوتے ہیں، قانونی تنازعات کس حد تک حل رہتے ہیں اور الاٹیوں و شہریوں کو بنیادی انفراسٹرکچر کی فراہمی میں حقیقی پیش رفت کتنی ہوتی ہے۔