اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے چک شہزاد میں 250 بستروں پر مشتمل پاک چین فرینڈشپ ہسپتال کا افتتاح کر دیا ہے، جس کے بارے میں حکومت نے اعلان کیا ہے کہ یہاں مریضوں کو مفت طبی علاج فراہم کیا جائے گا۔ یہ سہولت کووڈ-19 وبا کے دوران چین کے تعاون سے قائم ہوئی تھی مگر وبا کے بعد طویل عرصے تک پوری طرح استعمال نہیں ہو سکی۔

افتتاحی تقریب میں وزیراعظم نے کہا کہ ہسپتال کا انتظام انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے سپرد کیا گیا ہے اور ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے مریضوں کو سو فیصد مفت علاج فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ ہسپتال اسلام آباد کے ساتھ قریبی علاقوں کے مریضوں کے لیے بھی خدمات فراہم کرے گا۔ حکومت نے اس سہولت کا سابق نام تبدیل کر کے پاک چین فرینڈشپ ہسپتال رکھا ہے تاکہ اس کی تعمیر میں چین کی مالی معاونت کو نمایاں کیا جا سکے۔

یہ مرکز اصل میں 2020 میں Isolation Hospital and Infectious Treatment Centre کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔ اسے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے تعاون سے تقریباً 40 دن میں تعمیر کیا تھا۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق چین نے منصوبے کے لیے 40 لاکھ ڈالر کی گرانٹ فراہم کی تھی جبکہ تعمیر کی مجموعی لاگت تقریباً 98 کروڑ روپے بتائی گئی۔

تقریباً 40 کنال پر محیط ہسپتال میں مریضوں کے وارڈز، لیبارٹریاں، انتظامی دفاتر اور دیگر بنیادی طبی انفراسٹرکچر موجود ہے۔ وبا کے بعد عملے اور آپریشن سے متعلق مسائل کے باعث سہولت کم استعمال ہوئی۔ اسے مکمل طور پر فعال کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل اختیار کیا اور انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کو انتظام و آپریشن کے لیے منتخب کیا۔

وزارت قومی صحت نے 31 جولائی کو ہسپتال اور اسلام آباد کے ریجنل بلڈ سینٹر کے انتظام سے متعلق معاہدوں پر دستخط کیے تھے، جن کی منظوری وفاقی کابینہ سے لی گئی۔ اب افتتاح کے ساتھ حکومت اس مرکز کو مستقل طبی خدمات کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ عملی طور پر مفت علاج کے وعدے، مریضوں کی گنجائش اور دستیاب تخصصی خدمات کا پیمانہ ہسپتال کے باقاعدہ آپریشن کے ساتھ واضح ہوگا۔