اسلام آباد: پاکستان اور سنگاپور نے دوطرفہ تعلقات کو تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، تعلیم اور عوامی روابط کے شعبوں میں وسعت دینے پر بات چیت کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست پروازوں کی ممکنہ بحالی کا جائزہ لیا ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سنگاپور کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ویوین بالاکرشنن کے ساتھ مشترکہ میڈیا گفتگو میں کہا کہ براہ راست فضائی رابطہ کاروباری سفر اور عوامی روابط کو سہولت دے سکتا ہے۔

دونوں وزرائے خارجہ نے اقتصادی تعلقات کے ساتھ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، تعلیم، تحقیق، اختراع، انسانی وسائل، زراعت اور موسمیاتی امور میں تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان نے سنگاپور میں اپنے ہائی کمیشن میں ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ آفس دوبارہ کھول دیا ہے تاکہ دونوں ملکوں کی کاروباری برادریوں اور چیمبرز آف کامرس کے درمیان روابط بڑھائے جا سکیں۔ کاروباری وفود کے تبادلوں کی حوصلہ افزائی پر بھی اتفاق ہوا۔

ملاقات کے دوران پاکستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور سنگاپور سول ڈیفنس فورس کے درمیان آفات سے نمٹنے کے شعبے میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ بھی کیا گیا۔ دونوں فریقوں نے ثقافتی، تعلیمی اور نوجوانوں کے تبادلوں کو فروغ دینے اور باقاعدہ دوطرفہ سیاسی مشاورت جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

سنگاپور کے وزیر خارجہ کا دورہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ یہ دو دہائیوں سے زائد عرصے میں سنگاپور کے کسی وزیر خارجہ کا پاکستان کا پہلا دورہ بتایا گیا ہے، جبکہ 2026 میں دونوں ملک سفارتی تعلقات کے 60 سال مکمل کر رہے ہیں۔ پاکستانی حکام نے سنگاپور میں کام کرنے والے پاکستانی پیشہ ور افراد کو دونوں معاشروں کے درمیان ایک اہم رابطہ قرار دیا۔

بات چیت میں آسیان کے ساتھ پاکستان کے روابط بھی زیر غور آئے۔ پاکستان آسیان کا سیکٹرل ڈائیلاگ پارٹنر ہے اور اس نے 2027 میں سنگاپور کی آسیان چیئرمین شپ کے لیے تعاون کی خواہش ظاہر کی۔ علاقائی کشیدگی، سمندری تجارت اور سپلائی چینز کی سلامتی پر بھی تبادلہ خیال ہوا، اور دونوں جانب سے بین الاقوامی تنازعات کے حل میں مکالمے، سفارت کاری، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ براہ راست پروازوں کے بارے میں گفتگو فی الحال امکان اور مشاورت کے مرحلے میں ہے؛ کسی روٹ یا آغاز کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔