اسلام آباد: سنٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) نے مجموعی طور پر تقریباً 213 ارب روپے مالیت کے چار بڑے ترقیاتی منصوبوں کو غور و منظوری کے اگلے مرحلے کے لیے قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کو بھیج دیا ہے۔ اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کی اور وفاقی و صوبائی اداروں کے متعلقہ حکام نے منصوبوں کے مالی، تکنیکی اور انتظامی پہلوؤں کا جائزہ لیا۔

زیر غور منصوبوں میں خیبرپختونخوا میں بنیادی ڈھانچے اور خدمات کی بہتری سے متعلق ایک بڑا پروگرام بھی شامل ہے جس کی مالیت تقریباً 100 ارب روپے بتائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آبپاشی کے نظام، تعلیمی اداروں میں شمسی توانائی کے استعمال اور دیگر ترقیاتی شعبوں سے متعلق منصوبے بھی ایجنڈے کا حصہ تھے۔ بڑے منصوبوں کو سی ڈی ڈبلیو پی کی جانچ کے بعد ایکنک کے سامنے بھیجنا وفاقی ترقیاتی منظوری کے معمول کے طریقہ کار کا حصہ ہے۔

اجلاس میں منصوبوں کی لاگت، متوقع نتائج، عمل درآمد کی مدت اور متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں کی ذمہ داریوں پر غور کیا گیا۔ منصوبہ بندی کے حکام نے اس بات پر زور دیا کہ ترقیاتی اخراجات کو ایسے شعبوں کی طرف مرکوز کیا جائے جہاں عوامی خدمات، پیداواری صلاحیت اور طویل مدتی معاشی فوائد میں قابل پیمائش بہتری آ سکے۔

خیبرپختونخوا کے انفراسٹرکچر سے متعلق منصوبہ صوبے میں بنیادی سہولیات اور ادارہ جاتی صلاحیت بہتر بنانے کی کوششوں سے منسلک ہے، جبکہ آبپاشی سے متعلق سرمایہ کاری کا مقصد زرعی علاقوں میں پانی کے استعمال اور دستیابی کے نظام کو مضبوط کرنا ہے۔ اسکولوں میں شمسی توانائی کے منصوبوں سے بجلی کے اخراجات اور توانائی کی دستیابی سے متعلق مسائل کم کرنے کی توقع کی جا رہی ہے، تاہم حتمی فوائد کا انحصار منظوری، فنڈنگ اور موثر عمل درآمد پر ہوگا۔

ایکنک کی منظوری درکار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان منصوبوں پر فوری طور پر مکمل عمل درآمد شروع ہونا لازمی نہیں؛ اگلے مرحلے میں ان کی حتمی منظوری، مالی انتظام اور عمل درآمد کے شیڈول سے متعلق فیصلے کیے جائیں گے۔ حکومت کے ترقیاتی پروگرام میں بڑے منصوبوں کی بروقت تکمیل اور لاگت پر قابو ایک اہم چیلنج رہا ہے، اس لیے متعلقہ اداروں کی نگرانی اور پیش رفت کی باقاعدہ جانچ ان منصوبوں کی کامیابی کے لیے اہم ہوگی۔