اسلام آباد: مرکزی ترقیاتی ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) نے مختلف شعبوں میں 40.9 ارب روپے مالیت کے دس ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی ہے، جبکہ 172.25 ارب روپے کے تین بڑے منصوبے حتمی غور کے لیے قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کو بھیجنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کی۔

سرکاری تفصیلات کے مطابق اجلاس میں قومی معیشت کے اہم شعبوں اور حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے سے متعلق متعدد ترقیاتی تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔ منظور یا سفارش کیے گئے منصوبوں میں تعلیم و تربیت، اعلیٰ تعلیم، ذرائع ابلاغ، بجلی، ٹرانسپورٹ و مواصلات اور آبی وسائل کے شعبے شامل ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا تعلق انسانی سرمائے کی ترقی، ادارہ جاتی جدید کاری، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور پائیدار و جامع معاشی نمو کے اہداف سے ہے۔

اجلاس میں خیبر پختونخوا سے متعلق ایک اہم آبپاشی منصوبہ بھی زیر غور آیا۔ سی ڈی ڈبلیو پی نے صوبے میں زرعی پیداوار اور دیہی روزگار کو سہارا دینے کے لیے 69.9 ارب روپے کے اس آبپاشی منصوبے کی سفارش کی۔ چونکہ بڑے مالی حجم کے منصوبوں کی حتمی منظوری ایکنک کے دائرہ اختیار میں آتی ہے، اس لیے سفارش کیے گئے منصوبے اگلے مرحلے میں ایگزیکٹو کمیٹی کے سامنے رکھے جائیں گے۔

سی ڈی ڈبلیو پی وفاقی ترقیاتی منصوبوں کی جانچ اور منظوری کے نظام میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ اجلاس میں منصوبوں کی لاگت، متعلقہ شعبوں کی ضرورت اور قومی ترقیاتی ترجیحات کے ساتھ ان کی مطابقت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ تازہ فیصلوں سے مختلف وزارتوں اور عمل درآمد کرنے والے اداروں کو منظور شدہ منصوبوں پر آئندہ مراحل آگے بڑھانے کی راہ ملے گی، تاہم ایکنک کو بھیجے گئے منصوبوں کے لیے حتمی منظوری ابھی باقی ہے۔

سرکاری بیان میں ان اقدامات کو اڑان پاکستان کے وسیع تر وژن سے منسلک کیا گیا ہے۔ منصوبوں کی عملی پیش رفت، فنڈز کے اجرا اور تکمیل کی مدت کا انحصار متعلقہ منظوریوں، مالی دستیابی اور عمل درآمد کے مراحل پر ہوگا۔