اسلام آباد: پاکستان اور امریکا نے توانائی کے شعبے میں طویل مدتی تعاون، قابل اعتماد سپلائی انتظامات اور سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ وزارت پیٹرولیم کے مطابق وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک سے امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے ملاقات کی جس میں پاکستان کی توانائی سلامتی، ایندھن کی فراہمی اور شعبے میں امریکی کمپنیوں کے ممکنہ کردار پر بات چیت ہوئی۔

وزارت کے بیان کے مطابق علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت طویل مدتی توانائی سپلائی معاہدوں کو اہم سمجھتی ہے تاکہ عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے باوجود ملک کے لیے قابل پیش گوئی اور مستحکم فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے امریکی توانائی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لینے کی دعوت بھی دی، بالخصوص ان شعبوں میں جہاں ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے اور جدید کاری کی ضرورت ہے۔

ملاقات میں پاکستان کی ریفائنری صنعت کی اپ گریڈیشن بھی زیر بحث آئی۔ حکومت پہلے ہی مقامی ریفائنریوں کو جدید معیار پر منتقل کرنے اور صاف ایندھن کی پیداوار بڑھانے کے لیے پالیسی اقدامات پر کام کر رہی ہے۔ امریکی سرمایہ کاری یا ٹیکنالوجی تعاون کی صورت میں منصوبوں کی نوعیت اور حجم متعلقہ کمپنیوں، تجارتی شرائط اور ریگولیٹری منظوریوں سے طے ہوگا؛ ملاقات بذات خود کسی مخصوص نئے تجارتی معاہدے کی حتمی منظوری نہیں تھی۔

دونوں فریقوں نے توانائی کے شعبے میں موجودہ تجارتی روابط کا بھی جائزہ لیا۔ وزارت پیٹرولیم کے مطابق پاکستان اس سے قبل امریکی ایل این جی کارگو کی خریداری کر چکا ہے اور سرکاری توانائی اداروں کے ذریعے مستقبل کی سپلائی کے امکانات پر بھی غور جاری ہے۔ حکام نے اس تعاون کو توانائی ذرائع متنوع بنانے اور کسی ایک منڈی یا سپلائر پر انحصار کم کرنے کی حکمت عملی سے جوڑا۔

پاکستان کے لیے توانائی درآمدات زر مبادلہ، صنعتی لاگت اور مجموعی معاشی استحکام پر براہ راست اثر ڈالتی ہیں۔ اسی لیے حکومت طویل مدتی معاہدوں، مقامی پیداوار اور ریفائننگ صلاحیت میں بہتری کو ایک ساتھ آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ملاقات میں ظاہر کیے گئے ارادوں کے عملی نتائج آئندہ مذاکرات، تجارتی شرائط اور ممکنہ سرمایہ کاری فیصلوں کے بعد واضح ہوں گے۔