اسلام آباد: حکومت کی جانب سے جاری کردہ معاشی کارکردگی کے اسکورکارڈ میں کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر، برآمدات، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور نجی شعبے کے قرض میں بہتری ریکارڈ کی گئی۔ یہ اعدادوشمار وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے شیئر کیے، جنہیں سرکاری ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا ہے۔

اسکورکارڈ کے مطابق اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 21.5 ارب ڈالر تک پہنچے، جبکہ جولائی تا ستمبر 2026 کے دوران برآمدات گیارہ فیصد اضافے کے ساتھ 11.2 ارب ڈالر رہیں۔ اسی عرصے میں بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر 10.9 ارب ڈالر بتائی گئی ہیں۔ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں بیس فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور اس کا حجم تقریباً 720 ملین ڈالر رہا۔

رپورٹ میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے سرمایہ کاروں کی تعداد 656 ہزار سے تجاوز کرنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ حکومت نے اسے سرمایہ کاری کی سرگرمی اور مالی منڈی میں شمولیت کے پھیلاؤ کی علامت قرار دیا۔ اس کے علاوہ اسکورکارڈ میں نجی شعبے کو قرض کی فراہمی میں اضافے اور بعض معاشی اصلاحات پر پیش رفت کا حوالہ دیا گیا، تاہم مختلف اشاریوں کی پائیداری آئندہ سہ ماہیوں کے نتائج سے زیادہ واضح ہوگی۔

حکومتی جائزے میں پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کے منظرنامے کو بھی نمایاں کیا گیا۔ اسکورکارڈ کے مطابق تین بڑی بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کے لیے مستحکم آؤٹ لک برقرار رکھا ہے۔ کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری یا استحکام حکومت کے بیرونی قرض کی لاگت، بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتماد اور مستقبل کی فنانسنگ تک رسائی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

یہ اعدادوشمار حکومتی کارکردگی کے اسکورکارڈ کا حصہ ہیں اور انہیں مکمل معاشی تصویر کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ مہنگائی، پالیسی ریٹ، درآمدی لاگت، مالیاتی خسارے اور عالمی توانائی قیمتوں جیسے عوامل بھی معیشت کی سمت متعین کرتے ہیں۔ اس لیے پہلی سہ ماہی کی بہتری کے دعووں کا آئندہ سرکاری اعدادوشمار اور آزاد معاشی جائزوں کے ساتھ تقابل اہم رہے گا۔