اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ ملک میں گندم کی کوئی قلت نہیں اور حالیہ قیمتوں میں اضافہ مصنوعی طور پر پیدا کیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر تمام صوبوں کو صورت حال سے فوری طور پر نمٹنے اور اپنے اپنے انتظامی دائرہ کار میں قیمتوں کے مسئلے کو منظم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے گندم کی امدادی قیمت 4500 روپے فی 40 کلو مقرر کی ہے۔ ان کے مطابق اس فیصلے کا مقصد کسانوں کو بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کے مقابلے میں سہارا دینا، گندم کی کاشت کی حوصلہ افزائی کرنا اور مارکیٹ میں قیمتوں کے استحکام کے لیے بنیاد فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے بجلی، کھاد، بیج اور دیگر زرعی مداخل کی لاگت میں گزشتہ دو برس کے دوران اضافے کو کسانوں کے لیے اہم دباؤ قرار دیا۔
رانا تنویر حسین کے مطابق متعلقہ فریقوں نے موجودہ قیمت کے تعین کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے اسے ایسا توازن قرار دیا جس سے ایک جانب کاشت کاروں کو بہتر معاوضہ مل سکے اور دوسری جانب ملکی پیداوار میں اضافہ ہو۔ وزیر نے توقع ظاہر کی کہ کسان امدادی قیمت کے جواب میں زیر کاشت رقبہ اور زرعی مداخل میں سرمایہ کاری بڑھائیں گے، جس سے آئندہ فصل میں گندم کی پیداوار بہتر ہوسکتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ پاکستان اگلے سال گندم کی اضافی پیداوار حاصل کرنے اور ممکنہ طور پر برآمد کرنے کی پوزیشن میں آسکتا ہے۔ تاہم یہ مستقبل سے متعلق حکومتی توقع ہے؛ حقیقی پیداوار کا انحصار زیر کاشت رقبے، موسم، پانی، زرعی مداخل کی دستیابی اور فی ایکڑ پیداوار سمیت متعدد عوامل پر ہوگا۔
وزیر قومی غذائی تحفظ نے زراعت کو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے جدید تحقیق، نئی ٹیکنالوجی اور زرعی مشینری سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ حکومت کا فوری مؤقف یہ ہے کہ دستیاب گندم مجموعی ضرورت کے لیے کافی ہے اور قیمتوں میں حالیہ دباؤ کو انتظامی اور مارکیٹ اقدامات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
