گوادر: پاکستان اور ایران کے درمیان گبد رمدان سرحدی گزرگاہ ایک ہفتے کی بندش کے بعد تجارتی سرگرمیوں کے لیے دوبارہ کھول دی گئی ہے۔ سرحدی بندش کے باعث دونوں جانب مال بردار گاڑیوں کی نقل و حرکت متاثر ہوئی تھی، جبکہ دوبارہ کھلنے کے بعد درآمدی اور برآمدی سامان کی آمدورفت بتدریج بحال ہوگئی ہے۔

گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر نوید جان کلمتی کے مطابق سرحد کھلنے کے بعد ایران سے مائع پٹرولیم گیس لے جانے والے ٹینکر پاکستان میں داخل ہوئے اور پاکستانی جانب سے چاول سمیت مختلف برآمدی اشیا لے جانے والے ٹرک ایران روانہ ہوئے۔ تاجروں نے سرحدی تجارت کی بحالی کو مقامی کاروبار اور سپلائی چین کے لیے اہم قرار دیا ہے۔

گبد رمدان کراسنگ بلوچستان اور ایران کے درمیان زمینی تجارت کے اہم راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس گزرگاہ سے ایندھن، خوراک اور دیگر تجارتی اشیا کی نقل و حرکت ہوتی ہے، اس لیے عارضی بندش سے سرحدی علاقوں کے تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور سامان کی ترسیل کے نظام پر فوری اثر پڑتا ہے۔ تازہ بحالی سے رکی ہوئی گاڑیوں اور تجارتی کارگو کی کلیئرنس میں آسانی متوقع ہے۔

سرحدی تجارت بلوچستان کے کئی اضلاع میں روزگار اور مقامی منڈیوں کی فراہمی سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ کاروباری نمائندوں کا کہنا ہے کہ گزرگاہوں پر تسلسل اور واضح طریقہ کار سے تجارت کی لاگت کم رکھنے اور دونوں ملکوں کے درمیان قانونی تجارتی سرگرمی بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم سرحدی نقل و حرکت سکیورٹی، کسٹمز اور دونوں ملکوں کے انتظامی فیصلوں سے مشروط رہتی ہے۔

تازہ پیش رفت میں سرحد کھولنے کی تصدیق اور تجارتی گاڑیوں کی آمدورفت بحال ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ آئندہ دنوں میں کارگو کی مکمل روانی کا انحصار کلیئرنس، دستیاب انفراسٹرکچر اور متعلقہ سرحدی حکام کے انتظامات پر ہوگا۔