اسلام آباد: رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی سے متعلق حکومتی کارکردگی اسکور کارڈ میں معیشت کے متعدد بیرونی اور مالی اشاریوں میں بہتری کی نشاندہی کی گئی ہے۔ وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کی جانب سے شیئر کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر 21.5 ارب ڈالر تک پہنچے، جبکہ جولائی تا ستمبر کے دوران برآمدات 11 فیصد اضافے کے ساتھ 11.2 ارب ڈالر رہیں۔

اسکور کارڈ کے مطابق اسی مدت میں بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر 10.9 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 20 فیصد اضافہ بتایا گیا اور اس کا حجم تقریباً 720 ملین ڈالر رہا۔ یہ اعداد و شمار حکومت کی جانب سے پہلی سہ ماہی کی معاشی کارکردگی کے خلاصے کے طور پر جاری کیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے سرمایہ کاروں کی تعداد 656,218 تک پہنچنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت نے بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کے لیے مستحکم آؤٹ لک کو بیرونی اعتماد کے تناظر میں نمایاں کیا۔ ریٹنگ اور سرمایہ کاری کے اعداد و شمار کو معیشت کے مالی حالات کے وسیع تر جائزے کے ساتھ دیکھنا ضروری ہے، کیونکہ عالمی منڈی، شرح سود اور توانائی قیمتوں میں تبدیلیاں آئندہ سہ ماہیوں پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔

حکومتی اسکور کارڈ میں نجی شعبے کے قرض اور اصلاحاتی پیش رفت کو بھی بہتری کے عوامل میں شمار کیا گیا ہے۔ تاہم یہ کارکردگی ایک محدود سہ ماہی مدت کی تصویر پیش کرتی ہے اور مکمل مالی سال کے نتائج کے لیے آنے والے مہینوں میں برآمدات، درآمدات، مہنگائی، مالی خسارے، بیرونی ادائیگیوں اور سرمایہ کاری کے رجحانات اہم رہیں گے۔

اسی روز اسٹیٹ بینک نے الگ مانیٹری پالیسی فیصلے میں شرح سود بڑھائی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ بہتر بیرونی بفرز کے ساتھ مہنگائی اور عالمی توانائی قیمتوں کے خطرات بھی موجود ہیں۔ اس لیے پہلی سہ ماہی کے مثبت اشاریوں کے باوجود آئندہ معاشی سمت کا تعین داخلی اصلاحات اور بیرونی حالات دونوں کریں گے۔