اسلام آباد: لکی گروپ اور قطر انرجی کے کنسورشیم انرگیس نے پورٹ قاسم پر مجوزہ مائع قدرتی گیس (ایل این جی) ٹرمینل منصوبہ ترک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی نے اپنے فیصلے کے لیے پاکستان کی توانائی پالیسی اور ضروریات میں بنیادی تبدیلیوں کے ساتھ طویل عرصے سے زیر التوا پالیسی اور مالی معاملات کا حوالہ دیا ہے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق منصوبہ کئی برس سے مختلف منظوریوں، تجارتی انتظامات اور پالیسی امور کے مراحل سے گزر رہا تھا۔ انرگیس نے اب متعلقہ حکام کو آگاہ کیا ہے کہ موجودہ حالات میں وہ منصوبے کو پہلے سے طے شدہ شکل میں آگے نہیں بڑھانا چاہتی۔ یہ پیش رفت پاکستان کی ایل این جی درآمدی حکمت عملی اور نجی شعبے کے نئے ٹرمینلز کے منصوبوں کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے۔
دوسری جانب پورٹ قاسم اتھارٹی نے کنسورشیم کو خبردار کیا ہے کہ اگر 30 نومبر 2026 تک حتمی لیٹر آف انٹینٹ کی غیر مشروط قبولیت اور منصوبے کی تازہ صورتحال فراہم نہ کی گئی تو اتھارٹی لیٹر آف انٹینٹ ختم کر سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایسی صورت میں دو ملین ڈالر کی ابتدائی کنسیشن فیس بھی ضبط ہو سکتی ہے۔
منصوبے سے دستبرداری کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کے گیس اور ایل این جی شعبے میں طلب، درآمدی معاہدوں، مقامی گیس کی پیداوار اور بجلی کے شعبے کی ضروریات میں تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ نجی ٹرمینل منصوبوں کی تجارتی افادیت کا دارومدار گیس کی حقیقی طلب، پائپ لائن تک رسائی، تھرڈ پارٹی ایکسس اور ریگولیٹری و مالی شرائط پر ہوتا ہے۔
اس پیش رفت کا مطلب یہ نہیں کہ پورٹ قاسم پر موجود ایل این جی درآمدی نظام بند ہو رہا ہے؛ معاملہ انرگیس کے مجوزہ نئے ٹرمینل سے متعلق ہے۔ آئندہ مرحلے میں پورٹ قاسم اتھارٹی کے حتمی فیصلے، کنسورشیم کے رسمی جواب اور حکومت کی ایل این جی پالیسی سے واضح ہوگا کہ اس منصوبے کی جگہ کوئی نیا تجارتی ڈھانچہ سامنے آتا ہے یا منصوبہ مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے۔
