اسلام آباد: وفاقی حکومت نے نجکاری کمیشن اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے انضمام کے ذریعے ایک مشترکہ نجکاری و پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کمیشن قائم کرنے کے لیے قومی اسمبلی میں بل پیش کر دیا ہے۔ مجوزہ قانون کا مقصد دونوں اداروں کے بعض مشترک فرائض اور طریقہ کار میں پائی جانے والی تکرار کو کم کرنا اور سرکاری اثاثوں، نجکاری اور شراکتی منصوبوں سے متعلق انتظامی ڈھانچے کو ایک چھتری تلے لانا ہے۔

دستیاب مسودے اور پارلیمانی پیش رفت کے مطابق قانون سازی میں نجکاری کمیشن آرڈیننس 2000 اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی ایکٹ 2017 میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔ نئے انتظامی بندوبست کے تحت موجودہ دونوں اداروں کے متعلقہ اختیارات اور ذمہ داریوں کو ایک مشترکہ کمیشن کے ذریعے انجام دینے کی تجویز ہے۔ بل اب پارلیمانی عمل سے گزرے گا، اس لیے مجوزہ ڈھانچہ اس مرحلے پر حتمی قانون نہیں بنا۔

بل میں موجودہ اور سابق چیئرمینوں، سیکریٹریوں، بورڈ اراکین، افسران اور مشیروں کے لیے نیک نیتی سے سرکاری فرائض انجام دینے کے دوران کیے گئے اقدامات کے حوالے سے قانونی تحفظ کی شقیں بھی شامل ہیں۔ ان شقوں کی حتمی نوعیت اور دائرہ پارلیمانی منظوری اور ممکنہ ترامیم کے بعد ہی واضح ہوگا۔

حکومت کی جانب سے ادارہ جاتی انضمام کو فیصلہ سازی میں ہم آہنگی اور طریقہ کار کو زیادہ مؤثر بنانے کی کوشش کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں نجکاری پروگرام اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبے الگ قانونی فریم ورک کے تحت چلتے رہے ہیں، اس لیے مجوزہ تبدیلی سے متعلقہ منصوبوں کی منظوری، نگرانی اور نفاذ کے ادارہ جاتی طریقہ کار پر اثر پڑ سکتا ہے۔

قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے کے بعد بل کو متعلقہ پارلیمانی مراحل، ممکنہ کمیٹی جانچ اور ایوانوں کی منظوری درکار ہوگی۔ اس لیے نئے کمیشن کے قیام، اس کی عملی ساخت اور موجودہ اداروں کے اثاثوں، عملے اور جاری معاملات کی منتقلی سے متعلق تفصیلات قانون سازی مکمل ہونے کے بعد نافذ العمل ہوں گی۔