اسلام آباد/ویانا: پاکستان اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے 1,200 میگاواٹ کے چشمہ-5 جوہری بجلی گھر کے لیے سیف گارڈز معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ معاہدے کا مقصد نئے یونٹ پر بین الاقوامی جوہری حفاظتی نگرانی کے اطلاق کا باقاعدہ فریم ورک قائم کرنا ہے، جبکہ پاکستان اسے توانائی کی ضروریات اور کم کاربن بجلی کی پیداوار کے منصوبے کا اہم حصہ قرار دے رہا ہے۔
آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گروسی اور پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین راجہ علی رضا انور نے ویانا میں ایجنسی کے ہیڈکوارٹرز میں معاہدے پر دستخط کیے۔ تقریب آئی اے ای اے کی 70ویں جنرل کانفرنس کے موقع پر ہوئی اور چین اٹامک انرجی اتھارٹی کے چیئرمین شان ژونگ دے بھی موجود تھے۔ آئی اے ای اے بورڈ آف گورنرز اس معاہدے کی منظوری رواں سال مارچ میں متفقہ طور پر دے چکا تھا۔
سیف گارڈز کا نظام آئی اے ای اے کو جوہری مواد اور متعلقہ تنصیبات کی نگرانی کے ذریعے اس بات کی تصدیق میں مدد دیتا ہے کہ زیر نگرانی سرگرمیاں اعلان کردہ پرامن مقاصد کے مطابق ہیں۔ چشمہ-5 سے متعلق معاہدہ اسی بین الاقوامی نگرانی کے اطلاق کا انتظامی اور قانونی مرحلہ ہے۔ پاکستانی حکام نے اسے ملک کی پرامن جوہری توانائی پالیسی اور عدم پھیلاؤ سے متعلق بین الاقوامی ذمہ داریوں کے ساتھ وابستگی کا تسلسل قرار دیا ہے۔
چشمہ-5 کی تعمیر جاری ہے اور منصوبے میں ری ایکٹر ڈوم کی تنصیب مقررہ وقت سے پہلے مکمل ہونے کو حالیہ اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔ یونٹ کی کمیشننگ 2028 میں متوقع ہے۔ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد 1,200 میگاواٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل ہونے کی توقع ہے۔ پاکستان اس وقت چھ جوہری بجلی گھر چلا رہا ہے جن کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت 3,530 میگاواٹ ہے۔ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے مطابق ان پلانٹس نے اوسطاً 90 فیصد سے زیادہ کیپسٹی فیکٹر برقرار رکھا ہے اور ملک کے پاس جوہری ری ایکٹروں کے آپریشن کا ایک سو ری ایکٹر سال سے زیادہ تجربہ موجود ہے۔
معاہدے سے قبل پاکستانی اور چینی وفود نے جوہری سائنس اور ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال میں جاری اور مستقبل کے تعاون پر بھی بات چیت کی۔ پاکستانی وفد کی قیادت راجہ علی رضا انور جبکہ چینی وفد کی قیادت شان ژونگ دے نے کی۔ ویانا میں پاکستان کے سفیر اور آئی اے ای اے میں مستقل نمائندے محمد کامران اختر ملک بھی مذاکرات میں شریک تھے۔ چشمہ-5 پاکستان اور چین کے طویل المدتی سول نیوکلیئر تعاون کا حصہ ہے اور اس کے مکمل ہونے سے ملک کے بجلی کے نظام میں جوہری توانائی کا حصہ مزید بڑھے گا۔
