اسلام آباد: وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم ملک بھر میں نافذ ہونے کے ساتھ حکومت نے شہریوں کی رجسٹریشن اور سبسڈی کے حصول میں مدد کے لیے سہولت ڈیسک قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم پٹرولیم ڈیلرز نے ادائیگیوں کے طریقہ کار اور رقم کی بروقت واپسی سے متعلق تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسکیم پر پیش رفت کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ہدایت دی کہ انتظامیہ کے اہلکاروں، رضاکاروں اور پٹرول پمپ عملے پر مشتمل سہولت ڈیسک شہریوں کی رہنمائی کریں۔ حکام کے مطابق رجسٹریشن کے لیے شناختی کارڈ نمبر، گاڑی کی نمبر پلیٹ، رجسٹریشن کا صوبہ اور گاڑی کی رجسٹریشن کی تاریخ درکار ہے۔ اسلام آباد میں ابتدائی مرحلے کے بعد اسکیم کو چاروں صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان تک توسیع دی گئی ہے۔
دوسری جانب پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ فی لیٹر سبسڈی کی رقم کی واپسی کے بارے میں واضح تحریری طریقہ کار نہ ہونے سے پمپ مالکان کو مالی دباؤ کا خدشہ ہے۔ ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک خدا بخش کے مطابق ڈیلرز یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ادائیگی کس ادارے کے ذریعے، کس مدت میں اور کس تصدیقی نظام کے تحت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار طویل عرصے تک بڑی رقوم روک کر نہیں رکھ سکتے۔ یہ ڈیلرز کا مؤقف ہے، جبکہ حکومتی سطح پر اس سے قبل قومی اسٹیئرنگ کمیٹی نے اسٹیٹ بینک کے ذریعے پٹرول پمپوں کو 24 گھنٹے کے اندر ادائیگیاں پراسیس کرنے کی ہدایت کی تھی۔
اسی روز نئی پٹرولیم قیمتوں کا اطلاق بھی ہوا۔ پٹرول کی قیمت 6 روپے 88 پیسے اضافے کے بعد 391 روپے 22 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 5 روپے 62 پیسے بڑھ کر 421 روپے 45 پیسے فی لیٹر مقرر کیا گیا۔ اوگرا نے اضافے کو عالمی خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتوں سے منسلک کیا ہے۔
اسکیم ایسے وقت نافذ ہوئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں رسد کے خدشات نے عالمی توانائی منڈی کو غیر معمولی دباؤ میں رکھا ہوا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ہدف چھوٹی گاڑیوں اور موٹر سائیکل استعمال کرنے والے اہل شہریوں کو مہنگے ایندھن کے اثرات سے جزوی تحفظ دینا ہے۔ اسکیم کی عملی کامیابی کا ایک اہم پہلو یہ ہوگا کہ رجسٹریشن، پمپ پر تصدیق اور ڈیلرز کو ادائیگی کا نظام مسلسل اور بغیر تاخیر کے کام کرے، کیونکہ ڈیلرز نے واضح کیا ہے کہ طویل ادائیگی تاخیر ان کی شرکت متاثر کر سکتی ہے۔
