اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی صحت سے متعلق زیر التوا مقدمات کی سماعت کے دوران وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے متعلقہ عدالتی ریکارڈ طلب کرنے کے معاملے پر قانونی سوالات اٹھائے ہیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں بینچ نے معاملے کی نوعیت کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کی اور سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔

رپورٹ کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے 15 ستمبر کو آئین کے آرٹیکل 175-ای کے تحت سپریم کورٹ میں زیر التوا متعلقہ معاملات کا ریکارڈ طلب کرکے انہیں اپنے سامنے مقرر کرنے کی ہدایت کی تھی۔ سپریم کورٹ کے بینچ نے سماعت کے دوران یہ سوال زیر بحث لایا کہ آیا وفاقی آئینی عدالت کا مذکورہ حکم سپریم کورٹ کے لیے لازم ہے اور دونوں اداروں کے آئینی دائرہ اختیار کی حد بندی اس صورت حال میں کس طرح لاگو ہوتی ہے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی آئینی عدالت نے آئینی شق کے تحت اختیار استعمال کیا ہے اور 27ویں آئینی ترمیم میں دونوں عدالتی اداروں کے دائرہ کار کی وضاحت کی گئی ہے۔ جسٹس شاہد وحید نے وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے وضع کیے گئے سوالات کا حوالہ دیتے ہوئے بنیادی حقوق اور منصفانہ سماعت کے آئینی تقاضوں پر بھی گفتگو کی۔ عدالت میں یہ نکتہ بھی زیر بحث آیا کہ قیدیوں سے متعلق بعض معاملات میں سپریم کورٹ کے دیگر آئینی و شرعی اختیارات کس طرح بروئے کار آ سکتے ہیں۔

بینچ نے فوری طور پر کوئی حتمی فیصلہ دینے کے بجائے عدالتی ہم آہنگی برقرار رکھنے اور دونوں اعلیٰ عدالتی اداروں کے مناسب کام میں ممکنہ تضاد سے بچنے کے لیے سماعت مؤخر کی۔ اس مرحلے پر عدالت نے وفاقی آئینی عدالت کے حکم کو کالعدم یا غیر مؤثر قرار نہیں دیا، بلکہ اس کی پابندی، دائرہ اختیار اور متعلقہ آئینی دفعات کی تشریح کے سوالات کو مزید معاونت کے لیے کھلا رکھا ہے۔

یہ پیش رفت عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم قانونی معاملہ ہے کیونکہ اس میں سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے باہمی اختیارات کی عملی حدود زیر بحث آئی ہیں۔ آئندہ سماعت میں اٹارنی جنرل کی معاونت اور فریقین کے دلائل کے بعد اس قانونی تنازع کی مزید وضاحت متوقع ہے۔