اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ ایک مربوط قومی میڈیکل ریکارڈ نظام کی تیاری پر کام کر رہا ہے تاکہ ڈاکٹر مختلف ہسپتالوں میں علاج کرانے والے مریضوں کی سابقہ طبی معلومات تک ضرورت کے وقت رسائی حاصل کر سکیں۔ عرب نیوز پاکستان سے گفتگو میں وزیر صحت نے بتایا کہ پاکستان سعودی عرب کے متحد طبی ریکارڈ کے تجربے سے استفادہ کرنا چاہتا ہے۔
وزیر صحت کے مطابق مجوزہ نظام کا مقصد مریض کی طبی تاریخ کو مختلف اداروں میں بکھرے ریکارڈ سے نکال کر ایسی مربوط شکل دینا ہے جس سے علاج کے تسلسل میں مدد مل سکے۔ اس نوعیت کے نظام میں مریض کی شناخت، سابقہ علاج اور متعلقہ طبی معلومات کی دستیابی اہم ہوتی ہے، تاہم رپورٹ میں منصوبے کی تکنیکی ساخت، ڈیٹا کے ذخیرے، رسائی کے قواعد یا نفاذ کی حتمی تاریخ کی مکمل تفصیلات نہیں دی گئیں۔ اس لیے ان پہلوؤں کے بارے میں مزید سرکاری وضاحت درکار ہوگی۔
مصطفیٰ کمال نے سعودی تعاون سے اسلام آباد میں زیرِ منصوبہ کنگ سلمان ہسپتال کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق ہسپتال کے پہلے مرحلے کو 18 سے 24 ماہ کے اندر مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ یہ منصوبہ پاکستان اور سعودی عرب کے صحت کے شعبے میں تعاون کا ایک نمایاں حصہ ہے اور حکومت اسے وفاقی دارالحکومت میں طبی سہولتوں کی استعداد بڑھانے سے جوڑ رہی ہے۔
مربوط طبی ریکارڈ کا منصوبہ عملی طور پر ملک کے مختلف سرکاری اور ممکنہ طور پر دیگر صحت مراکز کے درمیان معلومات کے تبادلے کا تقاضا کرے گا۔ ایسے نظام کی کامیابی کے لیے تکنیکی مطابقت، مریض کی شناخت کی درستگی، سائبر سکیورٹی، طبی عملے کی تربیت اور ذاتی صحت کے ڈیٹا کے تحفظ کے واضح ضابطے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ وزیر صحت کے بیان میں سعودی ماڈل سے سیکھنے پر زور دیا گیا، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ پاکستان میں اس نظام کا ابتدائی مرحلہ کن شہروں یا ہسپتالوں سے شروع ہوگا۔
پاکستان میں مریضوں کے ریکارڈ اکثر مختلف ہسپتالوں اور لیبارٹریوں میں الگ الگ محفوظ ہوتے ہیں، جس کے باعث ایک ادارے سے دوسرے ادارے میں علاج منتقل ہونے پر مکمل طبی تاریخ فوری دستیاب نہیں ہوتی۔ حکومت کی جانب سے زیرِ غور مربوط نظام اسی خلا کو کم کرنے کی کوشش ہے۔ منصوبے کی حتمی افادیت اس کے نفاذ، ڈیٹا کے معیار، رازداری کے تحفظ اور ملک بھر کے صحت اداروں کے درمیان قابلِ اعتماد رابطے پر منحصر ہوگی۔
