یورپی کمیشن نے چیٹ جی پی ٹی کو ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کے تحت ’ویری لارج آن لائن سرچ انجن‘ قرار دیتے ہوئے اسے یورپی یونین کے سخت ترین آن لائن نگرانی کے قواعد کے دائرے میں شامل کر دیا ہے۔ یہ کسی نمایاں جنریٹو اے آئی چیٹ بوٹ کے لیے اس نوعیت کی پہلی نامزدگی ہے۔ اسی فیصلے میں ریڈٹ اور روبلوکس کو ’ویری لارج آن لائن پلیٹ فارمز‘ قرار دیا گیا ہے۔

یورپی کمیشن کے مطابق تینوں سروسز نے یورپی یونین میں اوسط ماہانہ صارفین کی تعداد کم از کم 45 ملین ہونے کی اطلاع دی، جو ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کے تحت بڑی سروس کی نامزدگی کی قانونی حد ہے۔ نامزدگی کے بعد متعلقہ سروسز کے پاس چار ماہ کا وقت ہے کہ وہ اضافی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کریں۔ کمیشن کے مطابق یہ مدت نومبر 2026 کے اختتام تک بنتی ہے۔

اضافی قواعد میں سروس اور الگورتھمک نظام سے پیدا ہونے والے نظامی خطرات کی شناخت، تجزیہ اور تخفیف شامل ہے۔ ان خطرات میں غیر قانونی مواد کی ترسیل، بچوں پر منفی اثرات، صارفین کی جسمانی اور ذہنی فلاح، بنیادی حقوق، انتخابی عمل اور عوامی سلامتی جیسے معاملات شامل ہیں۔ بڑی سروسز کو آزاد آڈٹ، ریگولیٹرز کے ساتھ ڈیٹا شیئرنگ، تحقیق کے لیے منظور شدہ محققین کو رسائی اور بعض سفارشاتی نظاموں میں پروفائلنگ سے آزاد آپشن جیسے تقاضوں کا بھی سامنا ہوتا ہے۔

یورپی کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کا مقصد بڑے آن لائن نظاموں کے سماجی اثرات کے مطابق جوابدہی بڑھانا ہے۔ چیٹ جی پی ٹی کی نامزدگی خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ روایتی سرچ انجن اور سوشل پلیٹ فارمز کے بعد اب جنریٹو اے آئی سروس بھی اسی وسیع نگرانی کے ڈھانچے میں شامل ہو رہی ہے۔

یہ اقدام یورپ میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی کے بڑھتے ہوئے قانونی نظام کا حصہ ہے، جہاں ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کے ساتھ الگ اے آئی ایکٹ بھی نافذ کیا جا رہا ہے۔ دونوں قوانین کا دائرہ اور قانونی ذمہ داریاں مختلف ہیں، مگر چیٹ جی پی ٹی کی نئی درجہ بندی سے واضح ہوتا ہے کہ یورپی ریگولیٹرز بڑے جنریٹو اے آئی نظاموں کو صرف تکنیکی مصنوعات نہیں بلکہ وسیع سماجی اثر رکھنے والی ڈیجیٹل خدمات کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔