پاکستان میں مختلف سرکاری پروگراموں کے ذریعے ایک لاکھ 32 ہزار سے زائد طلبہ، نوجوانوں اور انجینئرز کو جدید ڈیجیٹل مہارتیں دینے کا ہدف سامنے آیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ان اقدامات میں سیمی کنڈکٹر تعلیم، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیٹا اینالیٹکس، سافٹ ویئر اور جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی کی تربیت شامل ہے۔ یہ مجموعی ہدف مختلف پروگراموں کے مقررہ اعداد کو یکجا کرتا ہے اور عملی تکمیل ہر پروگرام کے اندراج، مدت اور نفاذ سے مشروط ہوگی۔
انسپائر پروگرام کے تحت 7,200 افراد کو تربیت دینے کا منصوبہ ہے۔ ان میں 2,200 انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ طلبہ کو سیمی کنڈکٹر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کلسٹرز کے ذریعے شامل کیا جائے گا، جبکہ ملک بھر سے 5,000 انجینئرز کے لیے الگ تربیتی سرگرمیاں رکھی گئی ہیں۔ اس حصے کا مقصد چِپ ڈیزائن اور متعلقہ تحقیقی صلاحیت کے لیے مقامی افرادی قوت کو بہتر بنانا بتایا گیا ہے۔
اسکل ٹیک پروگرام تین برس میں 25 ہزار افراد کو مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، کلاؤڈ، ڈیٹا اینالیٹکس اور سافٹ ویئر کے شعبوں میں تربیت دینے کا ہدف رکھتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس میں بوٹ کیمپس، صنعتی سرٹیفکیشن، انٹرن شپس، نرم مہارتیں اور صنعت کے ساتھ روابط شامل کیے جائیں گے۔ محض تربیتی نشست کے بجائے عملی تجربے اور ملازمت کے تقاضوں سے مطابقت پیدا کرنا پروگرام کے اعلان کردہ ڈیزائن کا حصہ ہے۔
پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ اور زیڈ ٹی ای کے معاہدے کے تحت ایک لاکھ افراد کو آن لائن مصنوعی ذہانت، فائیو جی اور جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی کی تربیت دینے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ اس اقدام کے لیے 100 تربیت کار تیار کرنے کا ہدف بیان کیا گیا ہے تاکہ تربیت کا دائرہ وسیع کیا جا سکے۔ تاہم رپورٹ میں ہر کورس کی حتمی نشستوں، داخلے کی تاریخوں یا تمام امیدواروں کے انتخابی معیار کی مکمل تفصیل جاری نہیں کی گئی؛ خواہش مند افراد کو متعلقہ سرکاری پورٹل اور اداروں کے مصدقہ اعلانات دیکھنا ہوں گے۔
پی ایس ای بی کی وسیع حکمت عملی میں مارکیٹ تک رسائی، کمپنیوں کی سہولت کاری، انفراسٹرکچر اور افرادی قوت کی تیاری شامل ہے۔ وزیراعظم کے نیشنل ٹیکنالوجی پارکس پروگرام کے تحت ٹیکنالوجی مراکز کی تعداد 250 تک لے جانے، اسلام آباد اور کراچی میں آئی ٹی پارکس اور سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس کو آگے بڑھانے کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ مارکز نامی ون ونڈو سہولت کے ذریعے رجسٹریشن، ویزا، ترسیلات، ضابطہ جاتی امور اور سرمایہ کار خدمات چوبیس گھنٹے دستیاب بنانے کا ہدف ہے۔
رپورٹ کے مطابق کمپنی رجسٹریشن کو ڈیجیٹل بنایا گیا ہے اور قابل تصدیق کیو آر سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی سہولت متعارف کرائی گئی ہے۔ پی ایس ای بی اور اسٹیٹ بینک کے تعاون سے بینکاری رابطوں، فوکل پرسنز، زرمبادلہ کے معاملات، ڈیجیٹل سروس فراہم کنندگان کی فہرست، برآمدی رقوم اور خصوصی فارن کرنسی اکاؤنٹس سے متعلق سہولت پر بھی کام ہو رہا ہے۔ امریکی سرکاری خریداری کے ایک تربیتی پروگرام کا آغاز بھی مارکیٹ تک رسائی کے اقدامات میں شامل بتایا گیا۔
یہ اعداد تربیت اور سہولت کاری کے سرکاری اہداف ہیں، مکمل شدہ ملازمتوں یا یقینی برآمدی آمدن کا دعویٰ نہیں۔ پروگراموں کی حقیقی قدر اس وقت واضح ہوگی جب اندراج، تکمیل، سرٹیفکیشن، صنعت میں تقرری اور برآمدی نتائج باقاعدہ طور پر شائع اور جانچے جائیں گے۔
— اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




