وو ہو، چین: چین کی بڑی آٹو برآمد کنندہ کمپنی چیری نے کہا ہے کہ وہ امریکی کار ساز اداروں کے ساتھ ممکنہ شراکت داری کے لیے تیار ہے، کیونکہ کمپنی یورپ اور دوسری عالمی منڈیوں میں تیز توسیع کے بعد شمالی امریکا میں اپنے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ چیری کے نائب صدر چارلی ژانگ نے رائٹرز کو بتایا کہ کمپنی امریکہ کے لیے مختلف آپشنز دیکھ رہی ہے اور امریکی آٹو سازوں کے ساتھ تعاون بھی ان میں شامل ہو سکتا ہے۔
چیری Omoda اور Jaecoo سمیت مختلف برانڈز فروخت کرتی ہے اور حالیہ برسوں میں چین کی آٹو صنعت کے عالمی پھیلاؤ کا اہم حصہ بنی ہے۔ چینی کار ساز جدید ٹیکنالوجی اور نسبتاً مسابقتی قیمتوں کے باعث روایتی عالمی کمپنیوں کے لیے نئی مسابقت پیدا کر رہے ہیں۔ تاہم امریکی مارکیٹ میں داخلہ زیادہ مشکل ہے، جہاں چینی گاڑیوں کو 100 فیصد سے زیادہ محصولات اور ڈیٹا سکیورٹی سے متعلق سخت ضوابط کا سامنا ہے۔
ژانگ کے مطابق چیری کینیڈا میں اگلے سال کے اوائل میں اپنے برانڈ کے آغاز کی تیاری کر رہی ہے۔ انہوں نے امریکی مارکیٹ کے لیے کسی مخصوص شراکت دار یا کاروباری ماڈل کی تفصیل نہیں بتائی، تاہم کہا کہ کمپنی تکنیکی طور پر ایسی گاڑی تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جو چینی ہارڈویئر یا سافٹ ویئر پر انحصار نہ کرے۔ یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کمپنی امریکی قواعد اور سکیورٹی خدشات کے مطابق مختلف سپلائی چین یا ٹیکنالوجی ڈھانچے پر غور کر سکتی ہے۔
امریکہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی آٹو مارکیٹ ہے، لیکن چینی کمپنیوں کے لیے موجودہ تجارتی اور ضابطہ جاتی رکاوٹیں براہ راست داخلے کو محدود کرتی ہیں۔ چیری کے عہدیدار کے تازہ بیان کو اس تناظر میں کمپنی کی امریکی خواہشات کا نسبتاً واضح اظہار سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ ابھی کسی باقاعدہ معاہدے یا مارکیٹ لانچ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
چیری کی پہلی گاڑی 1999 میں چین کے شہر وو ہو میں تیار ہوئی تھی۔ کمپنی نے کم قیمت برانڈ کی حیثیت سے آغاز کیا اور اب معیار اور جدت کے اعتبار سے عالمی سطح پر ٹویوٹا اور ٹیسلا جیسے بڑے ناموں کے ساتھ اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ شمالی امریکا میں اس کی حکمت عملی اس بات کا اہم امتحان ہو گی کہ چینی آٹو ساز بڑھتی تجارتی پابندیوں کے ماحول میں مقامی شراکت داری، متبادل سپلائی چین اور ٹیکنالوجی موافقت کے ذریعے کس حد تک نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
