کراچی: حب پاور کمپنی نے کہا ہے کہ پاکستان میں BYD گاڑیوں کی مقامی پیداوار کے ابتدائی مرحلے میں خام مال اور پرزہ جات مکمل طور پر درآمد کیے جائیں گے، جبکہ وقت کے ساتھ مقامی تیاری اور سپلائی چین کا حصہ بڑھایا جائے گا۔ کمپنی انتظامیہ نے 20 اکتوبر کو ہونے والی کارپوریٹ بریفنگ میں بتایا کہ طویل مدتی ہدف گاڑی کے تقریباً 80 فیصد حصوں کو مقامی سطح پر تیار یا حاصل کرنا ہے۔

ڈان کے مطابق حبکو انتظامیہ کا کہنا ہے کہ زیادہ مقامی تیاری سے لاگت میں مسابقت بہتر ہونے اور درآمدات پر انحصار کم ہونے کی توقع ہے۔ تاہم یہ 80 فیصد کا ہدف فوری موجودہ شرح نہیں بلکہ مستقبل کی لوکلائزیشن حکمت عملی ہے، جس کا حصول مقامی سپلائرز کی تکنیکی صلاحیت، پیداوار کے حجم، سرمایہ کاری اور پالیسی ماحول پر منحصر ہوگا۔

پاکستان میں الیکٹرک اور نئی توانائی کی گاڑیوں کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کے ابتدائی مرحلے میں ہے۔ مقامی اسمبلی سے مکمل تیار شدہ گاڑیوں کی درآمد کے مقابلے میں زرمبادلہ کے استعمال، قیمت اور بعد از فروخت خدمات پر اثر پڑ سکتا ہے، لیکن اگر اسمبلی کے زیادہ تر پرزے بھی درآمدی ہوں تو ابتدائی برسوں میں درآمدی بل پر نمایاں کمی محدود رہ سکتی ہے۔ اسی لیے صنعت میں حقیقی لوکلائزیشن کو طویل مدتی مسابقت کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

BYD عالمی سطح پر برقی اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کے بڑے مینوفیکچررز میں شامل ہے، جبکہ پاکستان میں حبکو سے منسلک شراکت داری کے ذریعے اس کی گاڑیوں کی فروخت اور مقامی پیداوار کا منصوبہ آگے بڑھ رہا ہے۔ کمپنی کی بریفنگ سے واضح ہوتا ہے کہ پلانٹ کے آغاز اور سپلائی چین کی مقامی تشکیل الگ مراحل ہوں گے، اور ابتدائی پیداوار کو مکمل مقامی مینوفیکچرنگ نہیں سمجھا جا سکتا۔

حکومت بھی آٹو پالیسی 2026-31 میں مقامی پیداوار، برآمدات اور الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو بڑھانے کے اہداف زیر غور لا رہی ہے۔ BYD اور حبکو کے لوکلائزیشن منصوبے کی کامیابی کا عملی اندازہ اس وقت ہوگا جب کمپنی مقامی پرزہ جات کے تناسب، پیداواری حجم، قیمتوں اور سپلائر نیٹ ورک سے متعلق قابل پیمائش پیش رفت سامنے لائے گی۔