اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے بیٹری الیکٹرک گاڑیوں کے لیے ایک فیصد سیلز ٹیکس رکھنے سے متعلق حتمی پالیسی مسودے کی منظوری دے دی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق کئی ماہ کی مشاورت کے بعد منظور ہونے والا مسودہ اب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ زیر بحث آنے کی توقع ہے، جس کے بعد پالیسی کے عملی اور مالیاتی پہلو مزید واضح ہوں گے۔

حکومت کی الیکٹرک گاڑیوں سے متعلق حکمت عملی کا مقصد مقامی مارکیٹ میں بیٹری سے چلنے والی گاڑیوں کی قبولیت بڑھانا، درآمدی ایندھن پر انحصار میں کمی اور کم اخراج والی ٹرانسپورٹ کی طرف منتقلی کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ ایک فیصد سیلز ٹیکس کی تجویز روایتی گاڑیوں کے مقابلے میں برقی گاڑیوں کے لیے نسبتاً رعایتی ٹیکس سلوک فراہم کرتی ہے، تاہم اس کے مکمل اطلاق کے لیے متعلقہ مالیاتی اور قانونی اقدامات ضروری ہوں گے۔

رپورٹ کے مطابق پالیسی پر طویل عرصے سے مختلف سرکاری اداروں کے درمیان غور جاری تھا۔ حتمی منظوری کے بعد اگلا اہم مرحلہ آئی ایم ایف کے ساتھ مشاورت ہے کیونکہ پاکستان کا ٹیکس اور مالیاتی فریم ورک جاری پروگرام کی شرائط اور محصولات کے اہداف سے بھی منسلک ہے۔ اس لیے وزیراعظم کی منظوری کو حتمی نفاذ کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا؛ ٹیکس کی شرح اور مراعات کے عملی اطلاق کے لیے نوٹیفکیشن، قانون سازی یا دیگر رسمی اقدامات درکار ہو سکتے ہیں۔

پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت ابھی ترقی کے مرحلے میں ہے اور صارفین کے لیے قیمت، چارجنگ انفراسٹرکچر، بیٹری کی دستیابی اور بعد از فروخت خدمات اہم عوامل ہیں۔ کم سیلز ٹیکس گاڑی کی مجموعی قیمت پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے، لیکن اس کا حقیقی فائدہ مقامی تیاری، درآمدی لاگت، شرح مبادلہ اور کمپنیوں کی قیمتوں کی پالیسی پر بھی منحصر ہوگا۔

حکومت کے لیے دوسری جانب محصولات کا پہلو بھی اہم ہے۔ کسی مخصوص صنعت کو کم شرح دینے سے فوری ٹیکس وصولی محدود ہو سکتی ہے، جبکہ پالیسی ساز طویل مدت میں صنعت کے پھیلاؤ، سرمایہ کاری اور ایندھن کی درآمدات میں ممکنہ کمی کو فائدے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ آئی ایم ایف کے ساتھ گفتگو اور بعد کے سرکاری نوٹیفکیشن سے یہ واضح ہوگا کہ ایک فیصد سیلز ٹیکس کن اقسام کی بیٹری الیکٹرک گاڑیوں پر، کن شرائط اور کس مدت کے لیے لاگو کیا جائے گا۔