لندن: برطانیہ نے برسوں کے قانونی اور سیاسی تنازع کے بعد نارتھ سی میں جیک ڈا گیس فیلڈ کی منظوری دے دی ہے۔ حکومت نے فیصلے کو توانائی سلامتی اور بلند توانائی قیمتوں کے تناظر میں ضروری قرار دیا ہے، جبکہ ماحولیاتی حلقوں نے نئے فوسل فیول منصوبے کی منظوری پر سخت تنقید کی ہے۔

برطانوی وزیر توانائی میاٹا فہنبولہ کے مطابق منصوبہ رواں ماہ کے اختتام تک گھروں اور کاروباری اداروں کو گیس فراہم کرنا شروع کر دے گا۔ حکومت کا اندازہ ہے کہ عروج کے مرحلے میں جیک ڈا برطانیہ کی ملکی گیس پیداوار میں تقریباً 6 فیصد اضافہ کر سکتا ہے اور یہ منصوبہ 11 سال تک چل سکتا ہے۔ ایران جنگ کے دوران توانائی قیمتوں میں اضافے نے برطانوی گھرانوں اور کاروباروں پر دباؤ بڑھایا ہے، جسے حکومت نے فیصلے کے اہم پس منظر میں شمار کیا۔

وزیراعظم اینڈی برنہم نے مؤقف اختیار کیا کہ شہریوں پر اخراجات کا بوجھ بڑھنے کی صورت میں موجود ملکی توانائی ذخائر کو ذمہ دارانہ انداز میں استعمال کرنے کے امکانات دیکھنا مناسب ہے۔ تاہم یہ فیصلہ لیبر حکومت کے لیے ایک مشکل توازن کی علامت بھی ہے، کیونکہ حکومت ایک طرف 2050 تک خالص صفر اخراج کے قانونی ہدف پر قائم رہنے کا دعویٰ کرتی ہے اور دوسری طرف نئی گیس پیداوار کو توانائی سلامتی کے لیے اہم قرار دے رہی ہے۔

منصوبے کی منظوری کے ساتھ حکومت نے دو ارب پاؤنڈ کی ابتدائی سرمایہ کاری سے ایک نیا انرجی ویلتھ فنڈ قائم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس فنڈ کا مقصد تیل اور گیس سے حاصل ہونے والی آمدن کا حصہ صاف توانائی کی منتقلی میں لگانا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ جیک ڈا کی پیداوار موجودہ ملکی طلب کو پورا کرنے میں مدد دے گی اور نئی نارتھ سی لائسنسنگ پر پابندی کے مجوزہ قانون سے اس کا مؤقف متصادم نہیں۔

گرین پارٹی نے فیصلے کو موسمیاتی پالیسی کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ جیک ڈا اور روزبینک منصوبے پہلے عدالتی فیصلے کے بعد تعطل کا شکار ہوئے تھے، تاہم روزبینک آئل فیلڈ پر حکومت نے ابھی فیصلہ نہیں کیا۔ وزیر توانائی کے مطابق دونوں منصوبوں کی نوعیت مختلف ہے کیونکہ جیک ڈا کی گیس بنیادی طور پر برطانوی مارکیٹ کے لیے ہے، جبکہ روزبینک سے نکلنے والا تیل زیادہ تر برآمد ہونے کی توقع ہے۔ نارتھ سی کی مجموعی پیداوار 1990 کی دہائی کے اواخر کی بلند سطح سے مسلسل کم ہو رہی ہے، اس لیے نئے منصوبوں کے باوجود طویل مدتی کمی کا رجحان ختم ہونے کی توقع نہیں۔