سانتیاگو: چلی کے دارالحکومت سانتیاگو اور اس سے ملحق علاقوں میں شدید بارشوں نے شہری زندگی کو متاثر کیا ہے۔ سیلابی پانی گھروں اور سڑکوں میں داخل ہونے، گاڑیاں بہہ جانے اور مٹی کے تودے گرنے کے خطرات کے بعد امدادی اداروں نے بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی ہیں۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق کم از کم چھ افراد زخمی ہوئے جن میں ایک کم عمر بچہ بھی شامل ہے۔

شدید بارش کے نتیجے میں دریائے ماپوچو میں طغیانی پیدا ہوئی اور کئی آبادیوں کو خطرات لاحق ہوئے۔ فائر فائٹرز اور دوسرے امدادی کارکنوں نے ایک ہزار سے زیادہ رہائشیوں کو متاثرہ مقامات سے نکالا یا محفوظ جگہوں پر منتقل ہونے میں مدد دی۔ مقامی انتظامیہ نے شہریوں کو پانی سے بھری سڑکوں اور غیر مستحکم پہاڑی ڈھلوانوں سے دور رہنے کی ہدایت کی۔

چلی کے صدر خوسے انتونیو کاست نے سانتیاگو کے علاقے لاس کونڈیس میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا تاکہ انتظامیہ کو امدادی اور حفاظتی اقدامات کے لیے اضافی اختیارات مل سکیں۔ حکام نے مختلف مقامات پر نقصانات کا جائزہ شروع کیا اور مزید تودے گرنے کے خطرے کے پیش نظر متعدد اضلاع کو بلند سطح کے انتباہ پر رکھا۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تقریباً 14.4 سینٹی میٹر، یعنی پانچ اعشاریہ سات انچ بارش ریکارڈ ہوئی، جو اکتوبر کی معمول کی مقدار سے تقریباً نو گنا زیادہ بتائی گئی۔ اتنی زیادہ بارش نے زمین کو پانی سے بھر دیا ہے، جس کے باعث پہاڑی اور ڈھلوانی علاقوں میں مٹی کھسکنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ اس صورت حال کا اثر صرف نشیبی رہائشی علاقوں تک محدود نہیں بلکہ سڑکوں، تعلیمی سرگرمیوں اور بجلی کی فراہمی پر بھی پڑا ہے۔

حکام نے کئی مقامات پر اسکول بند رکھنے کا فیصلہ کیا۔ ہفتے کے اوائل میں سانتیاگو کے تقریباً بارہ ہزار رہائشی بجلی کی بندش سے متاثر ہوئے تھے۔ امدادی ٹیمیں بارش سے ہونے والے نقصانات، بنیادی سہولیات کی بحالی اور خطرے سے دوچار گھروں کی جانچ میں مصروف رہیں۔

ماہرین کے مطابق خطے میں موسم کے غیرمعمولی اتار چڑھاؤ کے پس منظر میں ایل نینو کے اثرات بھی زیر بحث ہیں، تاہم کسی ایک بارش یا سیلاب کو صرف ایک موسمی عامل سے منسوب کرنا درست نہیں۔ تازہ صورت حال میں فوری ترجیح متاثرہ آبادیوں کی حفاظت، محفوظ راستوں کی دستیابی اور مزید بارش کی صورت میں بروقت انتباہ کا مؤثر نظام ہے۔