کوالالمپور: ملائیشیا میں انڈونیشیا کی جنگلاتی اور دلدلی زمینوں میں لگنے والی آگ سے پیدا ہونے والی سرحد پار دھند نے فضائی معیار شدید متاثر کیا ہے، جس کے بعد حکام نے دارالحکومت سمیت متعدد علاقوں میں اسکول بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ جمعہ کو اس صورتحال پر ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے انڈونیشیا کی قیادت سے رابطہ کیا اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے تحت فوری علاقائی مشاورت کی ضرورت پر زور دیا۔
اے ایف پی کی رپورٹ، جو ڈان نے دس اکتوبر کو شائع کی، کے مطابق دھوئیں کی دبیز تہہ ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے خطے کے کئی شہروں اور قصبوں کو متاثر کر رہی ہے۔ فضائی آلودگی کے ساتھ سانس کی تکالیف کی شکایات بڑھنے کی اطلاعات ہیں۔ کوالالمپور میں ہفتے کے دوران فضائی معیار مسلسل غیر صحت بخش سطح پر رہا اور ایک بین الاقوامی مانیٹرنگ ادارے کی درجہ بندی میں شہر کئی دن دنیا کے آلودہ ترین بڑے شہروں میں شامل رہا۔
ملائیشیا کی وزیر تعلیم فاضلینا صدیق نے چار ریاستوں اور دو وفاقی علاقوں میں اسکول مکمل بند کرنے کی ہدایت دی، جبکہ وسطی ریاست پہانگ میں بعض علاقوں کے لیے جزوی بندش کا فیصلہ کیا گیا۔ مغربی ریاست پیراک کے تین اضلاع میں بھی جمعہ کی دوپہر اسکول بند کیے گئے۔ ملک کے بادشاہ سلطان ابراہیم نے فضائی آلودگی کے اشاریے کے 150 یا اس سے اوپر پہنچنے پر تعلیمی ادارے بند کرنے کی حمایت کی۔
ملائیشیا کے سرکاری فضائی آلودگی اشاریے میں 100 سے زیادہ ریڈنگ غیر صحت بخش، 200 سے اوپر بہت غیر صحت بخش اور 300 سے زیادہ خطرناک شمار ہوتی ہے۔ تاہم کوالالمپور کے لیے رپورٹ کردہ 224 کی ریڈنگ بین الاقوامی ادارے آئی کیو ایئر کے الگ فضائی معیار اشاریے کی تھی، اس لیے دونوں نظاموں کے اعداد کو ایک ہی پیمانہ سمجھنا درست نہیں۔ دونوں ذرائع فضائی معیار میں شدید خرابی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
وزیراعظم انور ابراہیم نے وزیر خارجہ محمد حسن کو ہدایت دی کہ وہ آسیان کے سیکریٹریٹ سے رابطہ کر کے خطے کے وزرائے ماحولیات کا ہنگامی اجلاس بلانے کی کوشش کریں۔ اس اقدام کا مقصد ایسی آگ اور دھوئیں سے نمٹنے کے لیے سرحد پار تعاون بہتر بنانا ہے جو ایک ملک کے اندر شروع ہو کر پڑوسی ممالک کی صحت اور روزمرہ سرگرمیوں کو متاثر کرتا ہے۔
سنگاپور میں بھی فضائی معیار متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے۔ وہاں کی قومی ماحولیاتی ایجنسی کے مطابق آلودگی مزید بڑھنے کی صورت میں عوام کے لیے مناسب ماسک فراہم کیے جا سکتے ہیں اور بعض عوامی مقامات پر ماسک حاصل کرنے کی مشینیں دستیاب ہوں گی۔ ادارے نے بتایا کہ جنوبی سماٹرا اور کلیمنتان کی سمت سے چلنے والی ہوائیں دھوئیں کو سنگاپور تک لا سکتی ہیں، اگرچہ علاقے میں بارش کی پیش گوئی بھی کی گئی تھی۔ موجودہ صورتحال نے علاقائی صحت، تعلیم اور ماحولیاتی انتظام میں مشترکہ حکمت عملی کی اہمیت اجاگر کی ہے۔

