چین نے جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے نئی پالیسی ہدایات جاری کی ہیں جن میں اختراع کو فروغ دینے کے ساتھ سرمایہ کاری کے غیر متوازن رجحانات اور مصنوعی ذہانت کے خطرات سے نمٹنے پر زور دیا گیا ہے۔ روئٹرز کے مطابق یہ ہدایات چینی کمیونسٹ پارٹی اور حکومتی کابینہ کی جانب سے جاری کی گئی ہیں۔

نئی سمت کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ترقی صرف بڑے پیمانے پر سرمایہ لگانے تک محدود نہ رہے بلکہ تحقیق، تکنیکی کامیابیوں اور صنعت میں ان کے بامعنی استعمال کو ترجیح دی جائے۔ چین اپنی ٹیکنالوجی میں خود انحصاری اور اعلیٰ معیار کی معاشی ترقی بڑھانے کا خواہاں ہے۔ اس کا پس منظر امریکا کے ساتھ جاری ٹیکنالوجی مقابلہ بھی ہے، تاہم بیان کردہ اقدامات چینی صنعتی پالیسی کے وسیع مقاصد سے متعلق ہیں۔

ہدایات کے تحت مصنوعی ذہانت کے بنیادی نظریات اور اس کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچے کی حمایت، صنعتی اے آئی کے آزمائشی مراکز قائم کرنے اور حفاظتی و خطرہ کنٹرول نظام بہتر بنانے کی بات کی گئی ہے۔ حکومت کا ’اے آئی پلس‘ اقدام روایتی صنعتوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال اور نئی ذہین مصنوعات کی تیاری میں کردار ادا کرسکتا ہے۔ ان میں مربوط برقی گاڑیاں، الیکٹرانک آلات اور انسان نما روبوٹ جیسی ٹیکنالوجیز بھی شامل ہیں۔

دستاویز میں حکام کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ کسی نئے تکنیکی شعبے میں بغیر منصوبہ بندی کے ایک ساتھ سرمایہ کاری کے ہجوم اور محض قیاس آرائی پر مبنی سرگرمیوں سے بچیں۔ ناقص انتظام پر متعلقہ حکام کی جواب دہی کی بات بھی کی گئی ہے۔ اس طرح پالیسی ایک جانب جدید شعبوں میں سرمایہ کاری چاہتی ہے اور دوسری جانب وسائل کے ضیاع اور غیر حقیقی توقعات کو محدود کرنا چاہتی ہے۔

چین نے شہری ڈرونز اور ایئر ٹیکسیوں پر مشتمل کم بلندی کی فضائی معیشت کی ضابطوں کے تحت ترقی کا بھی ذکر کیا ہے۔ یہ رہنما ہدایات پالیسی کے اہداف ظاہر کرتی ہیں؛ ان سے کسی مخصوص منصوبے کی تکمیل یا متعین معاشی فائدے کو پہلے سے یقینی نہیں سمجھا جاسکتا۔ آنے والے مرحلے میں عملی قواعد، نگرانی اور صنعت کے ردعمل سے ان اقدامات کی افادیت واضح ہوگی۔