لاہور: لاہور ہائی کورٹ نے کیمرے اور مائیکروفون سے لیس اسمارٹ چشموں کی درآمد، فروخت اور استعمال کے بارے میں دائر درخواست کی سماعت کے دوران متعدد وفاقی اداروں کے سربراہان کو 15 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے یہ حکم متعلقہ اداروں کی جانب سے درخواست پر جواب جمع نہ کرائے جانے کے بعد دیا۔
ڈان کی 9 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس عالیہ نیلم نے سماعت کی، جس میں ڈپٹی اٹارنی جنرل رفعت ڈوگر، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے نمائندے موجود تھے۔ رپورٹ میں ڈپٹی اٹارنی جنرل کا نام رفاقت ڈوگر درج ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ دیگر فریقین کو نوٹس بھجوائے جا چکے ہیں مگر ان کے جوابات موصول نہیں ہوئے۔
چیف جسٹس نے اس صورت حال پر داخلہ اور کامرس ڈویژن کے سیکریٹریز، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین اور ممبر کسٹمز سمیت متعلقہ حکام کو اگلی سماعت پر طلب کیا۔ عدالت نے پی ٹی اے کو بھی جواب داخل کرنے کے لیے مزید وقت دیا۔ یہ ایک عبوری عدالتی کارروائی ہے؛ اس مرحلے پر چشموں کی درآمد یا فروخت کو غیر قانونی قرار دینے کا حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
درخواست شہری حسنین العابدین نے وکیل شہرام ساقی کے ذریعے عوامی مفاد میں دائر کی۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ ایسے چشمے عام عینک کی طرح دکھائی دیتے ہیں لیکن ان میں موجود آلات کسی شخص کی تصویر، آواز یا ویڈیو اس کی لاعلمی میں محفوظ یا براہ راست نشر کرنے کے لیے استعمال ہوسکتے ہیں۔ یہ خدشات درخواست گزار کے دلائل ہیں، نہ کہ عدالت کی جانب سے ثابت شدہ خلاف ورزیوں کا اعلان۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ متعلقہ کمپنی پاکستان کو باضابطہ مارکیٹ کے طور پر ظاہر نہیں کرتی، اس کے باوجود ایسے چشمے لاہور کے بعض بازاروں، بشمول حفیظ سینٹر، اور آن لائن فروخت ہو رہے ہیں۔ درخواست گزار نے بیرون ملک بعض ریگولیٹری خدشات اور عدالتوں میں اس نوعیت کے آلات پر پابندیوں کا حوالہ بھی دیا اور غیر محدود استعمال کو آئینی حقوق سے متصادم قرار دینے کی استدعا کی۔
اس مقدمے میں بنیادی سوال شہریوں کی نجی زندگی، نگرانی کے امکانات اور جدید قابل پہناؤ ٹیکنالوجی کے لیے مناسب قواعد سے متعلق ہے۔ فی الحال عدالت نے اداروں سے مؤقف طلب کیا ہے؛ قانون سازی، درآمدی پابندی یا مصنوعات پر عمومی پابندی کا کوئی حتمی حکم اس خبر میں رپورٹ نہیں ہوا۔ اگلی سماعت 15 اکتوبر کو مقرر ہے۔
