راولپنڈی: راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی، آر ڈی اے، کو سرکاری خط و کتابت اور فائلوں کی کارروائی میں کاغذ کے استعمال کو کم سے کم کرنے اور الیکٹرانک دفتری نظام اپنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کمشنر راولپنڈی اور ڈائریکٹر جنرل آر ڈی اے سلمان غنی کی ہدایات پر ادارے میں زیرو پیپر پالیسی کے نفاذ اور الیکٹرانک فائل اینڈ آفس آٹومیشن سسٹم، ای ایف او اے ایس، کے مؤثر استعمال کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس ہوا۔
ڈان کی 9 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں اتھارٹی کے مختلف ڈائریکٹوریٹس کے ڈائریکٹرز، اعلیٰ افسران اور متعلقہ عملے نے شرکت کی۔ شرکا نے موجودہ دفتری مراسلت اور فائلوں کی کارروائی کا جائزہ لیا اور کاغذی نظام سے الیکٹرانک انتظام کی جانب منتقلی کے طریقہ کار پر گفتگو کی۔
کمشنر نے تمام متعلقہ شعبوں کو ہدایت کی کہ وہ مقررہ الیکٹرانک نظام کی پابندی کریں اور غیر ضروری کاغذی فائلیں، خطوط اور روایتی مراسلت بتدریج ختم کریں۔ انتظامی ڈائریکٹوریٹ کو بھیجی جانے والی سرکاری فائلیں، خطوط اور زیر غور معاملات مقررہ طریقہ کار کے مطابق الیکٹرانک نظام ہی میں شروع، آگے ارسال اور مکمل کیے جائیں گے۔ حکام کے مطابق دوسرے ذرائع سے بھیجی جانے والی مراسلت قبول نہ کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔
اس فیصلے کا مقصد دفتری کام کی رفتار بڑھانا، فائلوں کی نقل و حرکت کا ریکارڈ محفوظ رکھنا اور کارروائی میں شفافیت اور جواب دہی کو بہتر بنانا بتایا گیا ہے۔ الیکٹرانک نظام سے کسی فائل کی موجودہ حیثیت اور مختلف دفاتر میں اس کی پیش رفت دیکھنے کی سہولت مل سکتی ہے، جس سے تاخیر کی نشاندہی نسبتاً آسان ہوگی۔
اجلاس میں واضح کیا گیا کہ ہر ڈائریکٹوریٹ اور متعلقہ افسر اپنے زیر التوا خطوط اور فائلوں کو مقررہ وقت میں نظام کے ذریعے آگے بڑھانے کا ذمہ دار ہوگا۔ بروقت جمع نہ کرانے یا کارروائی میں غیر ضروری تاخیر کی ذمہ داری بھی متعلقہ شعبے یا افسر پر عائد ہوگی۔ عملے کو نئی ہدایات پر فوری عمل اور مکمل تعاون کا کہا گیا ہے۔
یہ اعلان انتظامی تبدیلی کی ہدایات سے متعلق ہے؛ دستیاب رپورٹ میں اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی کہ اتھارٹی کے تمام پرانے ریکارڈ پہلے ہی ڈیجیٹل ہوچکے ہیں یا کاغذ کا استعمال مکمل طور پر ختم ہوگیا ہے۔ اصل پیش رفت کا اندازہ نظام کے مسلسل استعمال، عملے کی تربیت اور دفتری کام کے نتائج سے ہوگا۔
