اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی وزارتوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان پروگرام کے لیے متعلقہ معلومات کی فراہمی کے ضروری انتظامات مقررہ مدت کے اندر مکمل کریں۔ وزیراعظم نے یہ بات 8 اکتوبر 2026 کو پروگرام کی پیش رفت سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ سرکاری بریفنگ اور وزیراعظم کے بیانات کی تفصیلات روزنامہ ڈان نے 9 اکتوبر کو شائع کیں۔
وزیراعظم کے مطابق ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت قائم کیا جانے والا قومی سطح کا مرکزی ڈیٹا سینٹر سرکاری خدمات اور شہری سہولتوں کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف وفاقی وزارتوں کی ذمہ داریاں واضح کرنا اور متعلقہ معلومات مرکزی نظام تک پہنچانا حکومتی امور کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ضروری ہے۔ یہ ایک پالیسی ہدایت اور جاری پروگرام کا حصہ ہے، کسی نئی سروس کے مکمل طور پر فعال ہو جانے کا اعلان نہیں۔
شہباز شریف نے اجلاس میں کہا کہ پروگرام کا بنیادی مقصد شہریوں کو سرکاری خدمات زیادہ مؤثر اور سہل انداز میں فراہم کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے نے مستحق طبقات کے لیے ایندھن کی سبسڈی کے پروگرام پر عمل درآمد میں کردار ادا کیا تھا۔ وزیراعظم نے وزارتوں کی کارکردگی اور متعلقہ ریکارڈ کو ڈیجیٹل بنانے کو بدعنوانی اور انتظامی بے ضابطگیوں کی روک تھام کے حوالے سے بھی اہم قرار دیا۔ یہ مقاصد اور حکومتی موقف ہیں؛ ان کے حصول کا کوئی نیا آزادانہ جائزہ رپورٹ میں پیش نہیں ہوا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ شہری خدمات کے بعض ترجیحی شعبوں، خاص طور پر صحت اور زراعت، میں ڈیجیٹل تبدیلی کے کام کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ صحت کی وزارت کے ڈیٹا کو مرکزی مرکز تک پہنچانے اور ادویات کے معیار کی تصدیق میں ڈیجیٹل طریقوں کے استعمال پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے ملک بھر میں معیاری ادویات کی فراہمی کے لیے کیو آر کوڈز متعارف کرانے کی پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔
حکام کے مطابق وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی، وزارت قانون کے تعاون سے متعلقہ ملکی قوانین کو ایک ہی پلیٹ فارم پر مہیا کرنے کے اقدامات بھی کر رہی ہے، تاکہ مستقبل میں قانون سازی اور قانونی رہنمائی کے لیے معلومات تک رسائی بہتر ہو سکے۔ شرکا کو بتایا گیا کہ ڈیجیٹل سرکاری خدمات، ڈیجیٹل معیشت اور عوامی سہولتوں کی ترقی سے متعلق کام وزیراعظم کی ہدایات کے تحت جاری ہے۔
حکومتی اجلاس کی دستیاب رپورٹ میں تمام وزارتوں کے ڈیٹا کی منتقلی مکمل ہونے، مرکزی نظام کی عوامی افتتاحی تاریخ یا شہریوں کے لیے کسی مخصوص نئی سہولت کے آغاز کی تصدیق نہیں کی گئی۔ لہٰذا اس پیش رفت کو وفاقی وزارتوں کے لیے ایک انتظامی ہدایت اور زیرِ تکمیل پروگرام کے طور پر سمجھنا چاہیے۔ آنے والے مراحل کی جانچ اس بات سے ہو گی کہ متعلقہ محکمے مقررہ اہداف کے مطابق ڈیٹا اور خدمات کو عملی طور پر کس حد تک مربوط کر پاتے ہیں۔
