واشنگٹن: بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر تقریباً آٹھ ماہ کا مشن مکمل کرنے والے چار خلاباز جمعرات 8 اکتوبر 2026 کو بحفاظت زمین پر واپس پہنچ گئے۔ امریکی خلائی ادارے ناسا کی براہ راست نشریات کے مطابق اسپیس ایکس کا ڈریگن کیپسول 27 گھنٹے سے زیادہ کی واپسی پرواز کے بعد کیلیفورنیا کے ساحل کے قریب بحرالکاہل میں اترا۔ اس مشن کو کرو 12 کا نام دیا گیا تھا۔
واپس آنے والے عملے میں امریکی خلاباز اور مشن کمانڈر جیسیکا میئر، امریکی خلاباز جیک ہیتھوے، فرانس کی خلاباز سوفی ادینو اور روسی خلا باز آندرے فیدیایف شامل تھے۔ لینڈنگ کے بعد خلائی جہاز کو ایک خصوصی بحری جہاز پر منتقل کیا گیا، جہاں سے چاروں افراد کو ایک ایک کر کے باہر نکالا گیا۔ ابتدائی طبی معائنے کے بعد انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے خشکی تک اور پھر ہیوسٹن، ٹیکساس منتقل کرنے کا منصوبہ بتایا گیا۔
مشن کمانڈر جیسیکا میئر نے واپسی پر بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے غیر معمولی مشن کے بعد زمین پر لوٹنے پر خوشی کا اظہار کیا۔ ناسا کی نشریات میں دکھائی گئی بحفاظت لینڈنگ مشن کی واپسی کا اہم مرحلہ تھا۔ تاہم خلابازوں کی جسمانی حالت کے معمول کے طبی جائزے اور زمین کی کشش ثقل سے دوبارہ ہم آہنگ ہونے کے اقدامات اس کے بعد بھی جاری رہتے ہیں۔
مشن کے دوران فرانسیسی خلاباز سوفی ادینو نے خلائی اسٹیشن سے باہر چہل قدمی کرنے والی پہلی فرانسیسی خاتون خلاباز ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے 18 اگست، 25 اگست اور یکم ستمبر کو مجموعی طور پر تین اسپیس واکس میں حصہ لیا۔ یہ سرگرمیاں اسٹیشن پر قیام کے دوران سائنسی اور تکنیکی کام کے تسلسل کو ظاہر کرتی ہیں۔ ان کا ذکر مشن کے اہم مراحل کے طور پر کیا گیا ہے، مگر ہر سرگرمی کے بارے میں دستیاب تفصیلات سے بڑھ کر دعوے نہیں کیے جا سکتے۔
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر نئے چار رکنی عملے کی آمد گزشتہ ہفتے ہوئی تھی۔ توقع ہے کہ وہ تقریباً چھ ماہ تک مدار میں قائم تجربہ گاہ میں قیام کرے گا۔ اس ترتیب سے ایک عملے کی واپسی اور دوسرے کی موجودگی کے ذریعے خلائی تحقیق کی سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رہتا ہے۔
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن تقریباً ایک چوتھائی صدی سے مسلسل آباد ہے۔ موجودہ منصوبہ بندی کے مطابق اسے تقریباً 2030 کے آس پاس مدار سے اتار کر سمندر میں محفوظ انداز سے گرانے کا ارادہ ہے، تاہم مستقبل کے انتظامی اور تکنیکی فیصلے اپنی جگہ اہم رہیں گے۔ یوکرین کی جنگ کے بعد دیگر میدانوں میں شدید سیاسی اختلافات کے باوجود امریکا، روس اور دیگر شراکت دار ممالک نے اسٹیشن کے سلسلے میں تعاون جاری رکھا ہے۔
کرو 12 مشن کی محفوظ واپسی انسانی خلائی پرواز اور بین الاقوامی سائنسی تعاون کی ایک اہم پیش رفت ہے۔ ناسا کی براہ راست نشریات اور اے ایف پی کی رپورٹ سے لینڈنگ اور عملے کی شناخت کی تصدیق ہوئی؛ مشن کے مستقبل سے متعلق منصوبہ بندی کو اس واپسی کے واقعے سے الگ سمجھنا چاہیے۔

