اسلام آباد: کراچی میں مجوزہ انفارمیشن ٹیکنالوجی پارک کے منصوبے کو ایک مرتبہ پھر تاخیر کا سامنا ہے۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونی کیشن کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق تعمیراتی ٹھیکے کے لیے دو مرتبہ بولیاں طلب کرنے کے باوجود کسی کمپنی نے بولی جمع نہیں کرائی، جس کے بعد حکام نے ٹینڈر کے کاغذات کا آزادانہ جائزہ لے کر نئی بولیاں طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈان نے اس پیش رفت کی اطلاع نو اکتوبر کو دی۔

وزارت کی دستاویزات کے مطابق منصوبے پر تعمیراتی کام شروع کرنے کا نیا ہدف جون 2027 مقرر ہوا ہے۔ اس سے پہلے ٹینڈر کے تقاضوں اور دستاویزات کی پڑتال کے لیے پچیس اکتوبر 2026 کی تاریخ رکھی گئی ہے۔ ایک آزاد تعمیراتی معاہدہ کنسلٹنٹ نظرثانی شدہ ریکویسٹ فار پروپوزل کا جائزہ لے گا تاکہ دوبارہ بولی طلب کرنے سے پہلے ممکنہ اعتراضات اور فنی مسائل کا اندازہ کیا جاسکے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ کوریا ایگزم بینک سے پندرہ نومبر تک دوبارہ ٹینڈر کی اجازت لینے کا ہدف ہے۔ اسی تاریخ کو تیسرا ٹینڈر جاری کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اہل کوریائی کمپنیوں کو مسابقتی عمل میں حصہ لینے کی دعوت دی جائے گی۔ بولیاں جمع کرانے کی مقررہ آخری تاریخ چار جنوری 2027 ہوگی۔ اس شیڈول کو عملی پیش رفت کے بجائے فی الحال سرکاری منصوبہ بندی سمجھنا چاہیے۔

مجوزہ طریقہ کار میں تکنیکی اور مالی بولیوں کا الگ الگ جائزہ شامل ہے۔ پہلے منصوبے کی تکنیکی کمیٹی متعلقہ قابلیت اور شرائط کا جائزہ لے گی، جبکہ مالی تجاویز کی جانچ الگ ہوگی۔ اس کے بعد پروجیکٹ اسٹیئرنگ اینڈ ریویو کمیٹی سفارشات پر غور کرے گی۔ منصوبے کے فنانسنگ پارٹنر کوریا ایگزم بینک کی حتمی منظوری بھی درکار ہوگی۔

وزارت نے تعمیراتی معاہدے پر دستخط کے لیے پچیس مارچ 2027 کی تاریخ بطور ہدف رکھی ہے۔ معاہدہ طے ہونے کے بعد بھی تعمیر شروع ہونے، تعمیراتی رفتار اور تکمیل کے وقت کا انحصار ٹھیکے کی شرائط اور عملی انتظامات پر ہوگا۔ دو ناکام ٹینڈر مراحل سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹائم لائن میں غیر یقینی صورتحال موجود ہے، اس لیے جون میں تعمیر کا آغاز ابھی یقینی واقعہ نہیں ہے۔

آئی ٹی پارک جیسے منصوبوں کا مقصد ٹیکنالوجی کاروبار، اختراعی کمپنیوں اور متعلقہ خدمات کے لیے مشترکہ سہولتیں پیدا کرنا ہوتا ہے۔ تاہم موجودہ رپورٹ میں متوقع روزگار، مکمل تعمیراتی لاگت یا مستقبل کی آمدن کے ایسے تصدیق شدہ نئے اعداد فراہم نہیں کیے گئے جنہیں حتمی نتیجے کے طور پر لکھا جائے۔

اس منصوبے کی اگلی اہم پیش رفت آزادانہ دستاویزی جانچ کی تکمیل، کوریا ایگزم بینک کی منظوری اور واقعی بولیوں کا وصول ہونا ہوگی۔ ان مراحل سے قبل کسی کمپنی کو ٹھیکہ ملنے یا تعمیر شروع ہونے کا دعویٰ درست نہیں ہوگا۔