نئی دہلی: بھارتی حکومت نے سیٹلائٹ انٹرنیٹ خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کی منظوری کے طریقہ کار میں امتیاز برتنے کا الزام مسترد کیا ہے۔ یہ ردعمل ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ بعض بااثر کاروباری حلقے ان کی کمپنی اسٹارلنک کو بھارتی مارکیٹ میں خدمات شروع کرنے سے روک رہے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ریگولیٹری کارروائی منصفانہ اور غیر امتیازی طریقے سے جاری ہے۔

آٹھ اکتوبر کو ڈان میں شائع خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر الزام لگایا کہ بعض نامعلوم کاروباری شخصیات اپنی اجارہ داری برقرار رکھنے کے لیے اسٹارلنک کے آغاز میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں۔ انہوں نے کسی فرد یا کمپنی کا نام نہیں لیا۔ اس دعوے کو ثابت شدہ حکومتی مداخلت یا مسابقتی کمپنیوں کے خلاف باقاعدہ قانونی نتیجہ سمجھنا درست نہیں؛ یہ متعلقہ کاروباری شخصیت کا الزام ہے جس کی حکومت نے تردید کی ہے۔

بھارت کی ٹیلی کام مارکیٹ میں مکیش امبانی کی ریلائنس جیو اور سنیل متل کی بھارتی ایئرٹیل اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کمپنیوں سے وابستہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ منصوبوں کے ساتھ اسٹارلنک کو بھی ابتدائی نوعیت کی منظوری مل چکی ہے، لیکن اسپیکٹرم کی تقسیم اور دیگر حتمی اجازتوں کے مراحل ابھی باقی ہیں۔ اس طرح ابتدائی اجازت مل جانے اور صارفین کو مکمل تجارتی خدمات دستیاب ہونے کے درمیان اہم ریگولیٹری فرق موجود ہے۔

سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی خدمات دور دراز علاقوں میں رابطے کی سہولت بڑھانے کی صلاحیت رکھتی ہیں، لیکن انہیں شروع کرنے کے لیے فرکانسی وسائل، تکنیکی مطابقت اور حکومتی اجازتوں کا حصول ضروری ہوتا ہے۔ بھارت جیسے بڑے مواصلاتی بازار میں اس عمل کا تعلق صنعت میں مقابلے اور مختلف کمپنیوں کے لیے یکساں اصولوں سے بھی ہے۔ اسی پس منظر میں اسٹارلنک کی تجارتی پیش رفت اور حکومت کے ضابطہ کار پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی حکام نے کسی مخصوص کمپنی کے حق میں جانبداری کے تاثر کو رد کیا۔ دوسری طرف مسک کا مؤقف ان کے سوشل میڈیا بیان کی حد تک سامنے آیا ہے۔ فی الحال اس خبر سے کسی کمپنی کو حتمی اجازت ملنے، کسی ریگولیٹری فیصلہ کے کالعدم ہونے یا اسٹارلنک کے آغاز کی نئی یقینی تاریخ کی تصدیق نہیں ہوتی۔ آگے کی پیش رفت کا انحصار حکام کی جانب سے اسپیکٹرم اور باقی منظوریوں کے باضابطہ فیصلوں پر ہوگا۔