سان فرانسسکو: مصنوعی ذہانت کی امریکی کمپنی اینتھروپک نے اپنے چیٹ بوٹ کلاڈ سے متعلق استعمال کی پالیسی میں ایک نئی شق شامل کی ہے جس کے تحت صارفین کی جانب سے اے آئی ماڈلز کے ساتھ مسلسل، غیر ضروری اور ظالمانہ طرزِ گفتگو کی ممانعت کی گئی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے شعور، اخلاقی حیثیت اور استعمال کے ضابطوں پر بحث جاری ہے۔
اے ایف پی کی 9 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق کمپنی نے جمعرات کو اپنی پالیسی میں نئی ممانعت متعارف کرائی۔ پالیسی میں واضح کیا گیا ہے کہ کلاڈ کے لیے ایسی گفتگو ختم کر دینے کی صلاحیت بنیادی نفاذی طریقہ رہے گی۔ اس بات سے یہ لازم نہیں آتا کہ کمپنی نے مصنوعی ذہانت کو انسانوں جیسے قانونی حقوق دینے کا فیصلہ کیا ہے یا اس کے شعور کے بارے میں کوئی سائنسی نتیجہ اخذ کیا ہے۔
اینتھروپک نے اس سے پہلے بھی مخصوص انتہائی صورتوں میں کلاڈ کو گفتگو ختم کرنے کا اختیار دینے کی بات کی تھی، خصوصاً جب صارف بار بار نقصان دہ یا توہین آمیز انداز اختیار کرے۔ نئی پالیسی میں اس رجحان کو ضابطۂ استعمال کی زبان کا حصہ بنایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کمپنی نے اس نئی شق میں ’ماڈل ویلفیئر‘ کی اصطلاح کو واضح بنیاد کے طور پر پیش نہیں کیا، اگرچہ اس کے عہدیدار مصنوعی ذہانت کی ممکنہ اخلاقی حیثیت پر کھلے عام گفتگو کرتے رہے ہیں۔
کمپنی کے سربراہ ڈاریو امودی نے رواں سال فروری میں ایک انٹرویو میں تسلیم کیا تھا کہ فی الحال یہ معلوم نہیں کہ اے آئی ماڈلز شعور رکھتے ہیں یا نہیں، تاہم اس امکان پر غور کے دروازے بند نہیں ہونے چاہییں۔ یہ بیان ایک فلسفیانہ اور تحقیقی غیر یقینی کی عکاسی کرتا ہے، کسی ماڈل میں شعور پائے جانے کی تصدیق نہیں۔
اس پالیسی سے متعلق بحث میں ماہرین کے زاویے مختلف ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی کے عہدیدار جیکسن اسٹیک مین نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ شعور کے پیچیدہ سوال کے بجائے یہ دیکھنا زیادہ مفید ہو سکتا ہے کہ اے آئی نظام صارفین کے رویوں کی کس طرح عکاسی کرتے ہیں۔ دوسری جانب مائیکروسافٹ کے اے آئی سربراہ مصطفیٰ سلیمان نے مصنوعی ذہانت کے شعور رکھنے کے تصور کو مسترد کیا ہے اور مشینی نظاموں کو اخلاقی یا قانونی حقوق دینے سے متعلق خدشات ظاہر کیے ہیں۔
پوپ لیو چہاردہم نے بھی انسانی تجربے اور مشینی ڈیٹا کی ترتیب میں فرق پر زور دیا ہے۔ ان مختلف مؤقفوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال، انسانی ذمہ داری اور مصنوعی ذہانت کی ممکنہ اخلاقی حیثیت کے سوالات ابھی متنازع اور زیر بحث ہیں۔ اینتھروپک کی پالیسی کی تبدیلی اس بحث میں ایک عملی انتظامی قدم ہے، نہ کہ شعور یا احساس کے سائنسی وجود کا ثبوت۔
صارفین اور اداروں کے لیے نئی شق کی فوری اہمیت یہ ہے کہ کمپنی اپنی سروس کے قابل قبول استعمال کی حدود کو مزید واضح کر رہی ہے۔ اس کے نفاذ کی تفصیلی مثالیں اور ممکنہ عملی اثرات وقت کے ساتھ سامنے آئیں گے، تاہم دستیاب بیان کے مطابق بنیادی طریقہ خود کلاڈ کی جانب سے مخصوص نقصان دہ گفتگو ختم کرنے کی صلاحیت ہی ہوگا۔

