اسلام آباد، لاہور اور کراچی: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی، این سی سی آئی اے، نے ملک کے مختلف شہروں میں مبینہ آن لائن دھوکے، بینک فراڈ اور ڈیجیٹل استحصال کے خلاف کارروائیوں کے دوران متعدد افراد کو حراست میں لینے کی اطلاع دی ہے۔ ایجنسی کے ترجمان کے مطابق کارروائیاں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایت پر جاری مہم کا حصہ ہیں اور ڈائریکٹر جنرل سید علی ناصر رضوی ان کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ان کارروائیوں میں گرفتاری کا مطلب جرم ثابت ہونا نہیں، اور متعلقہ دعوے فی الحال تحقیقاتی ادارے کے بیان کی حیثیت رکھتے ہیں۔
ایجنسی کے کراچی سرکل نے ایک نجی ہوٹل کے قریب قائم کال سینٹر، جسے خبر میں کیلیون بتایا گیا، پر چھاپہ مار کر 33 مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا۔ ترجمان کے مطابق اس مرکز میں مبینہ طور پر غیر ملکی شہریوں کا ڈیٹا حاصل کر کے بینکاری دھوکے کیے جاتے تھے۔ ایجنسی نے لیپ ٹاپ، موبائل فون اور دیگر ڈیجیٹل سامان قبضے میں لینے کا بھی بتایا ہے۔ تفتیش کا دائرہ وسیع کیے جانے کی اطلاع دی گئی، مگر الزامات پر کسی عدالت کے حتمی فیصلے کی رپورٹ نہیں آئی۔
لاہور میں این سی سی آئی اے کے اضافی ڈائریکٹر زون عاطف امیر کے مطابق پہلی کارروائی میں 17 خواتین کو مبینہ آن لائن استحصال سے متعلق کال سینٹر چلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ افسر نے دعویٰ کیا کہ متعلقہ افراد آن لائن رابطوں اور ویڈیو کالوں کے ذریعے لوگوں کو مصروف رکھ کر ان سے تحائف یا مالی فائدے حاصل کرتے تھے۔ اس کارروائی میں 35 موبائل فون اور دو لیپ ٹاپ برآمد ہونے اور مقدمہ درج کیے جانے کی اطلاع بھی دی گئی۔ یہ تفصیلات پولیس یا تحقیقاتی ادارے کے الزامات ہیں، ملزمان کے خلاف جرم کے ثابت شدہ نتائج نہیں۔
لاہور ہی کے علامہ اقبال ٹاؤن میں دوسری کارروائی کے متعلق حکام کا کہنا تھا کہ ایک کال سینٹر کے ذریعے برطانوی شہریوں کو موبائل فون کی تبدیلی اور مواصلاتی خدمات کی مبینہ جعلی پیشکشیں کی جا رہی تھیں۔ افسر کے مطابق شکایت کی نوعیت یہ تھی کہ رقم وصول کرنے کے بعد فون نہیں پہنچائے جاتے تھے اور واپسی کی رقم بھی ادا نہیں کی جاتی تھی۔ ایجنسی نے نو مردوں کی گرفتاری اور دس موبائل فون اور پانچ لیپ ٹاپ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا۔
اسلام آباد میں ایجنسی نے علی حیدر جہانگیر نامی ایک شخص کو مبینہ آن لائن سرمایہ کاری فراڈ کے مقدمے میں گرفتار کیا۔ حکام کے مطابق شکایت کنندہ شہری نے ایک کروڑ چار لاکھ روپے کے نقصان کا الزام لگایا تھا۔ تحقیقاتی ادارے کا کہنا ہے کہ شکایت کے بعد تکنیکی ذرائع سے ملزم تک پہنچا گیا اور انسدادِ الیکٹرانک جرائم قانون کے تحت مقدمہ درج کر کے تحقیقات جاری رکھی گئی ہیں۔ اس مالی نقصان اور ملزم کی ذمہ داری کا حتمی عدالتی تعین ابھی سامنے نہیں آیا۔
این سی سی آئی اے کے سربراہ نے شہریوں سے کہا کہ وہ نامعلوم روابط، جعلی کالوں اور سرمایہ کاری کی غیر مصدقہ پیشکشوں سے محتاط رہیں اور اپنی مالی یا ذاتی معلومات غیر متعلقہ افراد کو فراہم نہ کریں۔ روزنامہ ڈان کی 9 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق ایجنسی نے سائبر جرائم کی روک تھام اور آگاہی کو اپنی ترجیحات میں شامل بتایا ہے۔
